مستنصر حسین تارڑ
(1939) لاہور ، پاکستان
مشہور فکشن نویس اور سفرنامہ نگار
مستنصر حسین تارڑ پاکستان کے مشہور سفر نامہ نگار ہیں۔ اب تک پچاس سے زیادہ کتابیں لکھ چکے ہیں۔ ان کی وجہ شہرت سفر نامے اور ناول نگاری ہے۔ اس کے علاوہ ڈراما نگاری، افسانہ نگاری اور فن اداکاری سے بھی وابستہ رہے۔ مستنصر حسین تارڑ پاکستان کے سب سے زیادہ پڑھے جانے والے ادیب ہیں۔
| مستنصر حسین تارڑ | |
| معلومات شخصیت | |
| پیدائش | 1 مارچ 1939 لاہور، پاکستان |
| رہائش | لاہور |
| قومیت | پاکستانی |
| مذہب | اسلام |
| عملی زندگی | |
| تعلیم | گریجویٹ |
| مادر علمی | گورنمنٹ کالج لاہور |
| پیشہ | مصنف |
| پیشہ ورانہ زبان | پنجابی، اردو |
| وجہ شہرت | سفرنامہ، ناول، افسانہ، کالم |
| اعزازات | |
|
تمغائے حسن کارکردگی کمال فن ادب انعام | |
حالات زندگی
مستنصر کا آبائی تعلق گجرات سے ہے لیکن اس وقت لاہور میں رہتے ہیں۔ بچپن میں قیام پاکستان کو دیکھنے کا موقع ملا ۔ مستنصر حسین تارڑ کے والد رحمت خان تارڑ گجرات کے ایک کاشت کار گھرانے سے تعلق رکھتے تھے۔ مستنصر صاحب نے اپنے والد سے گہرا اثر قبول کیا۔
ابتدائی حالات
مستنصر حسین تارڑ 1 مارچ 1939ء کو لاہور میں پیدا ہوئے۔ بیڈن روڈ پر واقع لکشمی مینشن میں اُن کا بچپن گذرا جہاں سعادت حسن منٹو پڑوس میں رہتے تھے۔ اُنھوں نے مشن ہائی اسکول، رنگ محل اور مسلم ماڈل ہائی اسکول میں تعلیم حاصل ک۔ میٹرک کے بعد گورنمنٹ کالج میں داخلہ لیا۔ ایف اے کے بعد برطانیہ اور یورپ کے دوسرے ممالک کا رخ کیا، جہاں فلم، تھیٹر اور ادب کو نئے زاویے سے سمجھنے، پرکھنے اور برتنے کا موقع ملا۔ پانچ برس وہاں گزارے اور ٹیکسٹائل انجنئیرنگ کی تعلیم حاصل کرکے وطن واپس لوٹے۔
تصانیف
مستنصر حسین تارڑ نے کئی درجن کتابیں تصنیف کیں۔ ان کو اگر یہاں لکھیں تو تعارف کافی لمبا ہو جائے گا۔ تارڑ کی زیادہ تر کتابیں ناول اور سفرنامہ پر مشتمل ہیں۔
اعزازات
مستنصر حسین تارڑ کی ادبی خدمات کے بدلے صدارتی تمغا حسن کارکردگی اوران کے ناول "راکھ” کو 1999 میں بہترین ناول کے زمرے میں وزیر اعظم ادبی ایوارڈ کا مستحق گردانا گیا۔ اور آپ کو 2002ء میں دوحہ قطر میں لائف ٹائم اچیومنٹ ایوارڈ دیا گیا۔