آرزو لکھنوی
1873-1951 | کراچی ، پاکستان
ممتاز قبل از جدید شاعر،جگر مرادآبادی کے معاصر
سید انور حسین (16 فروری 1873ء – 17 اپریل 1951ء)، جو آرزو لکھنوی کے نام سے معروف ہیں، ایک شاعر، نغمہ نگار اور صاحب طرز نثر نگار تھے۔ وہ لکھنؤ، ہندوستان کے ایک محلہ مادھوری میں پیدا ہوئے۔
| آرزو لکھنوی | |
| معلومات شخصیت | |
| پیدائش | سید انور حسین 16 فروری 1873 شمال مغربی صوبہ جات، برطانوی راج |
| وفات | اپریل 17، 1951 (عمر 78 سال) کراچی، پاکستان |
| قلمی نام | آرزو لکھنوی |
| زبان | اردو |
| قومیت | پاکستانی |
| اصناف | غزل، مرثیہ، قصیدہ، مثنوی، رباعی، نعت، فن تاریخ گوئی |
| رشتہ دار | میر یوسف حسین ‘قیاس’ (بھائی) |
شاعری کا آغاز
بھائی یوسف حسین خیال لکھنوی اس دور کیے مستند شاعروں میں شمار ہوتے تھے۔ گھر کا ماحول اور لکھنؤ کے شاعروں نے ان کے مذاق شاعری کی تربیت کی۔ بارہ یا تیرہ سال کے تھے کہ جلال لکھنوی کے شاگردوں میں شامل ہو گئے۔ ابتدا میں امید تخلص کیا مگر پھر آرزو تخلص اختیار کر لیا۔ 1909 میں جلال لکھنوی کے انتقال کے بعد بااتفاق رائے ان کے جانشین مقرر ہوئے۔ وہ صفی لکھنوی ، عزیز لکھنوی اور ثاقب لکھنوی جیسے اساتذہ کے شریک تھے۔
پیشہ ورانہ زندگی
شاعری کے علاوہ موسیقی کا بھی شوق تھا، مختلف سازوں کے بارے میں پڑھنا اور خود بھی سازوں میں دلچسپی لینا مشغلہ تھا۔ ساز بجانا، راگ راگنی تخلیق کرنا ان کے شوق میں داخل تھا۔ اسی دوران فکر معاش کی خاطر اس کلکتہ کا سفر کیا اور وہاں ایک فلم کمپنی میں گانے اور مکالمے لکھنے کی نوکری کر لی۔ معاشی پریشانیوں کے باعث انھیں لکھنؤ چھوڑ کر کلکتے جانا پڑا اور پھر وہاں سے بمبئی۔ ان شہروں میں انھوں نے فلم کمپنیوں کے لیے گیت لکھے۔ ایک زمانے میں فلم انڈسٹری میں ان کے نام کا ڈنکا بجتا تھا۔ جنوری 1951 میں خواجہ ناظم الدین کی دعوت پر پاکستان آئے اور ذو الفقار بخاری اور سید آل رضا کے اصرار پر پاکستان میں ہی ٹھہر گئے۔ ریڈیو پاکستان میں پانچ سو ماہانہ پر ملازم ہو گئے۔
تصانیف
- فعان آرزو (شاعری)
- جہان آرزو (شاعری)
- زبان آرزو (شاعری)
- نشان آرزو (شاعری)
- ساز حیات (شاعری)
- سریلی بانسری (شاعری)
- جیون سرود (فلمی گیتوں کا مجموعہ)
- عدل محمود (مثنوی)
- صبح بنارس (مثنوی)
- دردانہ (مثنوی)
- خمسہ متحیرہ (مرثیے اور اربعہ)
- صحیفہ الہام (سلاموں کا مجموعہ)
- صبح اسلام (نعتیہ مسدس)
- میزان الحروف (فنی رسالہ)
- نظام اردو (فنی رسالہ)
وفات
آرزو لکھنوی 17 اپریل 1951ء کو 78 سال کی عمر میں کراچی میں وفات پا گئے ۔
نمونہ کلام
غزل
| بھولے بن کر حال نہ پوچھو بہتے ہیں اشک تو بہنے دو |
| جس سے بڑھے بے چینی دل کی ایسی تسلی رہنے دو |
| رسمیں اس اندھیر نگر کی نئی نہیں یہ پرانی ہیں |
| مہر پہ ڈالو رات کا پردہ ماہ کو روشن رہنے دو |
| روح نکل کر باغ جہاں سے باغ جناں میں جا پہنچے |
| چہرے پہ اپنے میری نگاہیں اتنی دیر تو رہنے دو |
| خندۂ گل بلبل میں ہوگا گل میں نغمہ بلبل کا |
| قصہ ایک زبانیں دو ہیں آپ کہو یا کہنے دو |
| اتنا جنون شوق دیا کیوں خوف جو تھا رسوائی کا |
| بات کرو خود قابل شکوہ الٹے مجھ کو رہنے دو |
غزل
| رس ان آنکھوں کا ہے کہنے کو ذرا سا پانی |
| سینکڑوں ڈوب گئے پھر بھی ہے اتنا پانی |
| آنکھ سے بہہ نہیں سکتا ہے بھرم کا پانی |
| پھوٹ بھی جائے گا چھالا تو نہ دے گا پانی |
| چاہ میں پاؤں کہاں آس کا میٹھا پانی |
| پیاس بھڑکی ہوئی ہے اور نہیں ملتا پانی |
| دل سے لوکا جو اٹھا آنکھ سے ٹپکا پانی |
| آگ سے آج نکلتے ہوئے دیکھا پانی |
| کس نے بھیگے ہوئے بالوں سے یہ جھٹکا پانی |
| جھوم کر آئی گھٹا ٹوٹ کے برسا پانی |
| پھیلتی دھوپ کا ہے روپ لڑکپن کا اٹھان |
| دوپہر ڈھلتے ہی اترے گا یہ چڑھتا پانی |
| ٹکٹکی باندھے وہ تکتے ہیں میں اس گھات میں ہوں |
| کہیں کھانے لگے چکر نہ یہ ٹھہرا پانی |
| کوئی متوالی گھٹا تھی کہ جوانی کی امنگ |
| جی بہا لے گیا برسات کا پہلا پانی |
| ہاتھ جل جائے گا چھالا نہ کلیجے کا چھوؤ |
| آگ مٹھی میں دبی ہے نہ سمجھنا پانی |
| رس ہی رس جن میں ہے پھر سیل ذرا سی بھی نہیں |
| مانگتا ہے کہیں ان آنکھوں کا مارا پانی |
| نہ ستا اس کو جو چپ رہ کے بھرے ٹھنڈی سانس |
| یہ ہوا کرتی ہے پتھر کا کلیجہ پانی |
| یہ پسینہ وہی آنسو ہیں جو پی جاتے تھے ہم |
| آرزوؔ لو وہ کھلا بھید وہ ٹوٹا پانی |
غزل
| آرام کے تھے ساتھی کیا کیا جب وقت پڑا تو کوئی نہیں |
| سب دوست ہیں اپنے مطلب کے دنیا میں کسی کا کوئی نہیں |
| گلگشت میں دامن منہ پہ نہ لو نرگس سے حیا کیا ہے تم کو |
| اس آنکھ سے پردہ کرتے ہو جس آنکھ میں پردا کوئی نہیں |
| جو باغ تھا کل پھولوں سے بھرا اٹکھیلیوں سے چلتی تھی صبا |
| اب سنبل و گل کا ذکر تو کیا خاک اڑتی ہے اس جا کوئی نہیں |
| کل جن کو اندھیرے سے تھا حذر رہتا تھا چراغاں پیش نظر |
| اک شمع جلا دے تربت پر جز داغ اب اتنا کوئی نہیں |
| جب بند ہوئیں آنکھیں تو کھلا دو روز کا تھا سارا جھگڑا |
| تخت اس کا نہ اب ہے تاج اس کا اسکندر و دارا کوئی نہیں |
| قتال جہاں معشوق جو تھے سونے پڑے ہیں مرقد ان کے |
| یا مرنے والے لاکھوں تھے یا رونے والا کوئی نہیں |
| اے آرزوؔ اب تک اتنا پتا چلتا ہے تری بربادی کا |
| جس سے نہ بگولے ہوں پیدا اس طرح کا صحرا کوئی نہیں |