نوشی گیلانی
معروف پاکستانی شاعرہ
| نوشی گیلانی | |
| معلومات شخصیت | |
| پیدائش | 14 مارچ 1964ء (61 سال) بہاولپور ، پاکستان |
| شہریت | پاکستان |
| عملی زندگی | |
| مادر علمی | اسلامیہ یونیورسٹی بہاولپور |
| تعلیمی اسناد | ایم اے |
| پیشہ | شاعر |
| پیشہ ورانہ زبان | اردو |
حالات زندگی
نوشی گیلانی پاکستان سے تعلق رکھنے والی اردو زبان کی نامور شاعرہ ہیں۔ ان کا اصل نام نشاط گیلانی ہے۔ وہ 14 مارچ 1964 میں پاکستان کے شہر بہاولپور کے ایک علمی و ادبی گھرانے میں پیدا ہوئیں۔ اُن کے والد مسعود گیلانی پیشہ کے اعتبار سے ڈاکٹر تھے۔ نوشی نے اپنی تعلیم بہاولپور میں ہی مکمل کی۔ انھیں بچپن سے ہی شاعری کا شوق تھا۔
ادبی خدمات
نوشی گیلانی پاکستان کی ایک معروف اردو شاعرہ ہیں۔ وہ اپنی نرم اور دلکش شاعری کی وجہ سے شہرت رکھتی ہیں۔ نوشی گیلانی کی شاعری میں محبت، جدائی، خواتین کے جذبات، اور معاشرتی مسائل کا اظہار ملتا ہے۔
نوشی گیلانی نے اردو ادب میں اپنا خاص مقام بنایا ہے، اور ان کی شاعری میں سادگی کے ساتھ ساتھ گہرائی بھی نظر آتی ہے۔ انہوں نے پاکستان اور دنیا بھر میں کئی مشاعروں میں شرکت کی اور اردو ادب کو فروغ دیا۔
بقول محسن نقوی "روہی کی زرخیز کوکھ سے پھوٹنے والی غزلوں میں نوشی نے شہر محبت کی خواب پرست آنکھوں کو پتھرانے سے محفوظ رکھنے کے لیے ان گنت خوشنما منظروں کا رسد فراہم کیا۔ان کا کلام محض وقتی نہیں ،بلکہ قدیم و جدید اردو ادب ،عالمی ادب ،تہذیب و ثقافت ، روحانی اور تاریخی مکاتب فکر کاترجمان ہے۔ان کے اشعار میں سوز وگداز اور لہجے میں انفرادیت ہے۔روز مرہ کے احساسات و جذبات ہی ان کی شاعری کاحاصل ہے۔ ان کی بہت سی نظموں کے انگریزی ،ملائی اور یونانی زبانوں میں ترجمہ بھی ہوچکا ہے۔اس کے علاوہ انھوں نے انگریزی میں بھی شاعری کی ہے۔ان کی شاعری میں محبت اور رومانیت کا عنصر غالب ہے۔ہر تخلیق عشق کی خوشبو سے معطر ہے۔
تصانیف
1:محبتیں جب شمار کرنا (1993)
2:اداس ہونے کے دن نہیں(1997)
3:پہلا لفظ محبت لکھا(2003)
4:ہم تیرا انتظار کرتے رہے (2008)
5:نوشی گیلانی کی نظمیں(2008)
6:اے میرے شریکِ رسال جاں (2008)
7: ہوا چپکے سے کہتی ہے (2011)
اعزازات
خواجہ فرید ایوارڈ
نمونہ کلام
نظم
ہوا کو آوارہ کہنے والو
کبھی تو سوچو، کبھی تو لکھو
ہوائیں کیوں اپنی منزلوں سے بھٹک گئی ہیں
نہ ان کی آنکھوں میں خواب کوئی
نہ خواب میں انتظار کوئی
اب ان کے سارے سفر میں صبح یقین کوئی
نہ شام صد اعتبار کوئی
نہ ان کی اپنی زمین کوئی نہ آسماں پر کوئی ستارہ
نہ کوئی موسم نہ کوئی خوشبو کا استعارہ
نہ روشنی کی لکیر کوئی، نہ ان کا اپنا سفیر کوئی
جو ان کے دکھ پر کتاب لکھے
مسافرت کا عذاب لکھے
ہوا کو آوارہ کہنے والو
غزل
| اب کس سے کہیں اور کون سنے جو حال تمہارے بعد ہوا |
| اس دل کی جھیل سی آنکھوں میں اک خواب بہت برباد ہوا |
| یہ ہجر ہوا بھی دشمن ہے اس نام کے سارے رنگوں کی |
| وہ نام جو میرے ہونٹوں پر خوشبو کی طرح آباد ہوا |
| اس شہر میں کتنے چہرے تھے کچھ یاد نہیں سب بھول گئے |
| اک شخص کتابوں جیسا تھا وہ شخص زبانی یاد ہوا |
| وہ اپنے گاؤں کی گلیاں تھیں دل جن میں ناچتا گاتا تھا |
| اب اس سے فرق نہیں پڑتا ناشاد ہوا یا شاد ہوا |
| بے نام ستائش رہتی تھی ان گہری سانولی آنکھوں میں |
| ایسا تو کبھی سوچا بھی نہ تھا دل اب جتنا بیداد ہوا |