نصیر احمد خاں
1944-2021 | دلی, انڈیا
نقاد، محقق، ادیب
سابق استاد و چیئرپرسن جواہر لال نہرو یونیورسٹی
| نام | نصیر احمد خاں |
| پیدائش | 01 Jan 1944 | ماہرہ شریف |
| وفات | 03 Aug 2021 | دلی, دوسرا |
حالات زندگی
ڈاکٹر نصیر احمد خاں 1944ء میں مین پوری میں پیدا ہوئے۔ مارہرہ شریف میں ابتدائی تعلیم حاصل کرنے کے بعد علی گڑھ آ گئے اور وہاں شعبہ اردو سے امتیاز کے ساتھ ایم ۔ اے کیا۔ ہندوستان کے مختلف شہروں میں لسانیات کے سمر اسکولوں میں شرکت کرنے کے بعد لسانیات کا شوق انھیں پونا لے گیا جہاں دکن کالج کے سینٹر آف ایڈوانس اسٹڈیز ان لنگوئس ٹکس سے بھی لسانیات میں ایم اے کیا۔ ”کر خنداری ساخت کا توضیحی تجزیہ“ پر تقیقی مقالہ مکمل کر کے مسلم یونیورسٹی علی گڑھ میں 1973ء میں پی ایچ ڈی کے لیے داخل کیا اور ڈگری حاصل کی۔ کشمیر یونیورسی اور مسلم یونیوسٹی میں علی الترتیب شعبۂ اردو اور شعبۂ لسانیات میں درس و تدریس کے فرائض انجام دیے اور 1976ء سے ہندوستانی زبانوں کے مرکز جواہر لال نہرو یونیورسٹی نئی دہلی میں تحقیق اور درس تدریس کے کاموں میں مصروف رہے ہیں ۔ اب تک متعدد ایم فل اور پی ایچ ڈی کی ڈگریوں کے لیے ان کے زیر نگرانی مقالے لکھے جا چکے ہیں۔
ادبی خدمات
ڈاکٹر نصیر احمد ادب اور لسانیات کے مختلف موضوعات پر اردو اور انگریزی میں متعدد مضامین اور مقالات قلم بند کر کے انھیں قومی اور بین الاقوامی سیمیناروں اور اور کانفرنسوں میں پیش کر چکے ہیں۔ ان میں سے اکثر ملک کے علمی و ادبی رسالوں اور مرتب کی گئی کتابوں میں شائع ہوتے ہیں۔ انھوں نے اپنے علمی و تحقیقی مشاغل کی غرض سے امریکہ، پاروس، روس، برطانیہ، فرانس اور یوروپ کے دیگر ممالک کے دورے کیے ہیں۔ 1979ء میں ان کی کتاب ”اردو کی بولیاں اور کرخندار بولیاں اور کرخنداری کا عمرانی لسانیاتی مطالعہ“ کے نام سے شائع ہوئی تھی جو اردو بولیوں پر پہلا باقاعدہ کام ہے ۔ یہ کتاب یو پی. اردو اکادمی سے انعام حاصل کر کر چکی ہے۔
تصانیف
- آزادی کے بعد دہلی میں اردو انشائیہ
- ادبی اسلوبیات
- تاریخ زبان اردو
- ارود لسانیات
- اردو ساخت کے بنیادی عناصر
وفات
نصیر احمد خاں کی 2021ء انڈیا کے شہر دلی میں وفات ہوئی۔