غلام رسول قاسمی
1958 | جہلم ، پاکستان
پاکستانی عالم اور مصنف
| غلام رسول قاسمی | |
| معلومات شخصیت | |
| نام | غلام رسول قاسمی |
| پیدائش | 1958ء موضع سہوترہ تحصیل پنڈ دادنخان ضلع جہلم |
| فن | عالم اور مصنف |
| زبان | اردو، عربی، پنجابی |
| شہریت | پاکستان |
حالات زندگی
غلام رسول قاسمی زید مجدہ 1958ء موضع سہوترہ تحصیل پنڈ دادنخان ضلع جہلم میں پیدا ہوئے ۔ گورنمنٹ ہائی سکول پنڈ دادنخان سے میٹرک کیا ۔ کراچی یونیورسٹی سے BA کیا اور ساتھ ہی دینی تعلیم درسِ نظامی شروع کیا ۔ پاکستان ائیر فورس میں 18 سال ملازمت کے بعد ریٹائر ہوئے ائیر فورس میں ہر قسم کے ماحول کا تجربہ حاصل کیا اپنے فن میں Specialist تھے اور جہازی تعلیم کے Instructor رہے ۔ ملازمت کے دوران دینی تعلیم بھی حاصل کرتے رہے ۔ جن علماء سے زیادہ استفادہ کیا ان میں حضرت علامہ حافظ محمد فضل احمد رضوی (بھلوال) اور حضرت علامہ غلام رسول فیضی صاحب (شورکوٹ) شامل ہیں جو استاذ العلماء حضرت علامہ مولانا عطاء محمد صاحب بندیالوی رحمۃ اللہ علیہ اور حضرت محدثِ اعظم مولانا سردار احمد صاحب فیصل آبادی رحمۃ اللہ علیہ کے شاگرد ہیں ۔ ان بزرگوں نے علم کی روشنی آپ کو آگے پھیلانے کی اجازت دی ۔
ملازمت کے دوران ہی درگاہِ عالیہ مشوری شریف لاڑکانہ سندھ میں حاضر ہو کر حضرت قطب الاقطاب محمد قاسم مشوری قدس سرہُ کے ہاتھ پر بیعت ہوئے ۔ خود کو قاسمی اپنے مرشدِ کریم کی نسبت سے لکھتے ہیں ۔
وہیں سے ماذون ہونے کے بعد طلباءِ طریقت کی روحانی خدمت میں مصروف عمل ہیں ۔
مایہ ناز علمی اور روحانی ہستی جو فیضان و کمال سے بھر پور ، سنجیدگی اور متانت میں لاثانی ہیں ۔
آپ سلسلہ عالیہ قادریہ اور نقشبندیہ کے غواص ہیں ۔
ان دونوں سلسلوں کے فیضان سے آپ نے اور آپ کے مریدین نے وحدت الوجود اور وحدت الشہود کی حقیقت کو پا لیا ہے ۔
یہی وجہ ہے کہ اس سلسلہ طیبہ میں وحدت کے دریا بھی نوش کرا دیے جاتے ہیں اور شریعت کا دامن بھی ہاتھ سے نہیں چھوٹتا ۔
آپ علومِ ظاہریہ و باطنیہ سے آراستہ قابلِ دید ہستی ہیں ۔
اس وقت آپ القاسم ایجوکیشن سوسائٹی جھوک فقیر للہ روڈ پنڈدادنخان ضلع جہلم پنجاب میں قرآن مجید کی عربی میں تفسیر اور دیگر اہم کتب کی تدریس میں مصروف ہیں ۔
تصانیف
آپ نے کثیر تعداد کتب لکھیں ہیں ۔ چند کتب کے نام درج کیے ہیں۔
(1) ۔ (جِبَالُ الذَّھَبِ وَالنَّقرَۃ فِی تفسیر سورۃِ البَقَرَۃ ) آپ نے سورۃ البقرہ کی عربی میں تفسیر لکھی ۔
(2) ( اِحتِیَاجُ العَالَمِین الیٰ سِیرَۃِ سَیِّدِ المُرسَلِینﷺ ) سیرت النبی ﷺ پر عربی میں لکھی۔
(3) ۔ ( المستند ) 1870 احادیث کا مجموعہ جس میں سنی عقائد اور حنفی احکام پر احادیث یکجا کر دی گئی ہیں ۔
(4) ۔ ( ضابطہِ حیات ) اسلامی تعلیمات اور اسلامی زندگی کے تمام پہلوؤں پر مفصل کتاب
(5) ۔ ( مقالاتِ قاسمی ) دو جلدوں میں لکھیں جس میں توحید اور اسکے متعلقات ، رسالت اور اسکے متعلقات خلفاءِ راشدین اور دیگر شخصیات ، ایمانیات ، فقیہات ، عصریات
(6) ۔ ( تدریس العقائد ) عقائدِ اسلامیہ کی اقسام ، عقائد کی تفصیل ، ادیانِ عالم اور فرقِ باطلہ پر آسااقسام ، عقائد کی تفصیل ، ادیانِ عالم اور فرقِ باطلہ پر آسان اور مفصل کتاب جو صرف نحو کے طالبِ علموں کو ابتدائی ایام میں پڑھائے جانے کی غرض سے لکھی گئی ہے ۔
(7) ۔ (ضربِ حیدری) افضلیتِ شیخین پر دنیا اسلام کی مایہ ناز کتاب جس میں ملک بھر کے 30 علماء کرام کی تقاریظ موجود ہیں ۔
(8) ۔ (جامع الاسلام) قرآنی آیات ، حدیث ، فقہ ، اصولِ تفسیر ، اصولِ حدیث ، عقائد ، سیرت اور تصوف پر ایسی جامع کتاب جس کا مطالعہ ہر صاحبِ مسند اور نیک آدمی کے لیے کافی شافی ہے ہائر کلاسز کے طلباء کو اس کا پڑھانا ایک بہترین انتخاب ہے۔
(9) ۔ ( زادالعارفین من احوالِ الخلفاء الراشدین
(10) ۔ (اسلام زندہ باد) دفاعِ اسلام اور ردِالحاد پر لکھی گئی دنیائے اسلام کی نمائندہ کتاب ۔
(11) ۔ (خطابات النبی ﷺ) نبی کریم ﷺ کے خطابات ۔
(12) ۔ (اُمُّ العلوم وَاَبوُھَا) صرف و نحو کے تمام پہلوؤں کا احاطہ کرنے والی نہایت آسان اور مربوط کتاب جس میں قرآن و سنت سے مشقیں کرائی گئی ہیں ، جملوں کی ترکیب سکھائی گئی اور قرآن و سنت کی تخریج بھی کر دی گئی ہے ۔
(13) ۔ ( الانتھاء فی اثباتِ کونِ نبینا آخرالانبیاء ) ختمِ نبوت اور ردِ قادیانیت کے تمام پہلوؤں کا احاطہ کرنے والی انتہائی کتاب ۔
(14) ۔ (اسرار السلوک) اس میں علم کی تعریف اور تفصیل ، تصوف کی تعریف اور تفصیل ، تصوف کا عملی دستور ، اصلاح نفس ، کاملین کے وصیت نامہ اور تعلیمات وغیرہ خوبصورت ترتیب کے ساتھ بیان کئے گئے ہیں ۔
(15) ۔ (خیرُالکلام فی مدحِ سیدِالانام) آٹھ زبانوں میں نعتیہ مجموعہ اور نعت گوئی کا شرعی ضابطہ ، اس میں ایک نعت 8 اشعار 8 زبانوں میں ہیں اور ایک نعت نقطوں کے بغیر بھی ہے۔
(16) ۔ (نظم الفرائض) میراث کے موضوع پر شعروں میں کتاب ۔
(17) ۔ (عیسائیت سے اسلام تک) ردِ عیسائیت پر
(18) ۔ (دستور الطبیب) حکمت کے موضوع پر اور اس کے علاوہ بے شمار رسائل تصنیف فرمائے ۔