ظفر اقبال
1933 | لاہور ، پاکستان
ممتاز ترین جدید شاعروں میں معروف ۔ رجحان ساز شاعر
ظفر اقبال، (پیدائش: 27 ستمبر، 1933ء) پاکستان کے معروف شاعر اور کالم نگار ہیں۔ وہ معاصر جدید اردو غزل کے اہم ترین شاعروں میں شمار ہوتے ہیں۔ ان کے بیٹے آفتاب اقبال معروف ٹی وی اینکر ہیں۔
| ظفر اقبال | |
| معلومات شخصیت | |
| پیدائش | میاں ظفر اقبال 27 ستمبر 1933 (92 سال) بہاولنگر، صوبہ پنجاب (برطانوی ہند) (موجودہ (پاکستان) |
| قلمی نام | ظفر |
| پیشہ | شاعر، کالم نگار |
| زبان | اردو پنجابی |
| قومیت | پاکستانی |
| نسل | پنجابی |
| تعلیم | بی اے، ایل ایل بی |
| مادر علمی | گورنمنٹ کالج لاہور جامعہ پنجاب |
| اصناف | غزل، نظم، کالم |
| نمایاں کام | آب رواں اطراف عیب و ہنر وہم وگمان |
| اہم اعزازات | صدارتی اعزاز برائے حسن کارکردگی |
| اولاد | آفتاب اقبال، جنید اقبال |
حالات زندگی و تعلیم
ظفر اقبال 27 ستمبر، 1933ء کو بہاولنگر ، پاکستان میں پیدا ہوئے۔ ان کے والد چک نمبر 49/3R ضلع اوکاڑہ کے ایک معزز زمیندار تھے۔ ظفر اقبال نے ابتدائی تعلیم بہاولنگر سے حاصل کی اور میٹرک ایم سی ہائی اسکول اوکاڑہ سے 1950ء میں کیا۔ انٹرمیڈیٹ کا امتحان ایف سی کالج لاہور اور بی اے گورنمنٹ کالج لاہور سے کیا۔ ظفر اقبال نے ایل ایل بی کا امتحان لا کالج جامعہ پنجاب سے پاس کیا۔
وکالت کا امتحان پاس کرنے کے بعد انھوں نے اوکاڑہ کچہری میں پریکٹس شروع کر دی۔ وہ ایک بار اوکاڑہ ایسوسی ایشن اور دو مرتبہ پریس کلب اوکاڑہ کے صدر بھی رہے۔ اس دوران انھوں نے قومی سیاست میں بھرپور طریقے سے حصہ لیا۔ 1977ء کے انتخابات میں ظفر اقبال نے نیشنل عوامی پارٹی کی طرف سے راؤ خورشید علی خاں (پاکستان پیپلز پارٹی کے نامزد امیدوار) کے مقابلے میں الیکشن لڑا لیکن کامیاب نہ ہو سکے۔
ادبی خدمات
پرائمری کے دوران ان کی طبیعت شاعری کے لیے موزوں ہو چکی تھی، کیونکہ ان کے استاد نور احمد انجم قریشی جو خود بھی شاعر تھے بچوں کو بطور املا اشعار لکھ کر دیتے۔ ظفر اقبال آٹھویں جماعت تک کلیات میر اور دیوانِ غالب کا بھرپور مطالعہ کر چکے تھے۔ شفیق الرحمن کی تحریریں پڑھ کر ان کے اندر لکھنے کی تحریک پیدا ہوئی۔ انھوں نے غزل کے پیرائے میں فنی اور موضوعاتی سطح پر روایت شکنی کے حوالے سے اپنی ایک الگ اور بھرپور پہچان بنائی۔ اُن کے پہلے شعری مجموعے آب رواں کو عوام اور خواص، ہر دو حلقوں میں بے حد پزیرائی ملی۔ اس کے بعد انھوں شعری تجربات کا سلسلہ نہ صرف جاری رکھا بلکہ اسے بام عروج تک پہنچایا۔ 1973ء میں انھوں نے پہلا کالم سرور سکھیرا کے پرچے دھنک کے لیے لکھا۔ ان کے مختلف اخبارات میں ‘دال دلیا’ کے نام شائع ہونے والے ان کے کالم بھی اپنے قارئین کا وسیع حلقہ رکھتے ہیں۔ ظفر اقبال 16 فروری،1995ء سے یکم مارچ، 1997ء تک اردو سائنس بورڈ کے سربراہ بھی رہ چکے ہیں۔
تصانیف
- خشت زعفران
- ہرے ہنیرے
- آبِ رواں
- گل آفتاب
- رطب و یابس
- سرِ عام
- نوادر
- تفاوت
- غبار آلود سمتوں کا سراغ
- عیب وہنر
- وہم وگمان
- اطراف
- تجاوز
- تساہل
- اب تک‘ (کلیات غزل کے تین حصے)۔
اعزازات
حکومت پاکستان نے ان کی خدمات کے اعتراف کے طور پر انھیں صدارتی تمغہ حسن کارکردگی عطا کیا ہے۔
نمونہ کلام
غزل
| یہاں کسی کو بھی کچھ حسب آرزو نہ ملا |
| کسی کو ہم نہ ملے اور ہم کو تو نہ ملا |
| غزال اشک سر صبح دوب مژگاں پر |
| کب آنکھ اپنی کھلی اور لہو لہو نہ ملا |
| چمکتے چاند بھی تھے شہر شب کے ایواں میں |
| نگار غم سا مگر کوئی شمع رو نہ ملا |
| انہی کی رمز چلی ہے گلی گلی میں یہاں |
| جنہیں ادھر سے کبھی اذن گفتگو نہ ملا |
| پھر آج مے کدۂ دل سے لوٹ آئے ہیں |
| پھر آج ہم کو ٹھکانے کا ہم سبو نہ ملا |
غزل
| خامشی اچھی نہیں انکار ہونا چاہئے |
| یہ تماشا اب سر بازار ہونا چاہئے |
| خواب کی تعبیر پر اصرار ہے جن کو ابھی |
| پہلے ان کو خواب سے بیدار ہونا چاہئے |
| ڈوب کر مرنا بھی اسلوب محبت ہو تو ہو |
| وہ جو دریا ہے تو اس کو پار ہونا چاہئے |
| اب وہی کرنے لگے دیدار سے آگے کی بات |
| جو کبھی کہتے تھے بس دیدار ہونا چاہئے |
| بات پوری ہے ادھوری چاہئے اے جان جاں |
| کام آساں ہے اسے دشوار ہونا چاہئے |
| دوستی کے نام پر کیجے نہ کیونکر دشمنی |
| کچھ نہ کچھ آخر طریق کار ہونا چاہئے |
| جھوٹ بولا ہے تو قائم بھی رہو اس پر ظفرؔ |
| آدمی کو صاحب کردار ہونا چاہئے |