Skip to content
شہزاد احمد

شہزاد احمد

1932-2002 | لاہور ، پاکستان
پاکستانی غزل گو شاعر

شہزاد احمد
معلومات شخصیت
نامشہزاد احمد
پیدائش16 اپریل 1932ء | امرتسر ، انڈیا
وفاتیکم اگست 2012ء| لاہور ، پاکستان
فنشاعر
اصناف ادبغزل
زباناردو، پنجابی
شہریتپاکستان

پیدائش

شہزاد احمد نے 16 اپریل 1932ء کو مشرقی پنجاب کے مشہور تجارتی اور ادبی شہر امرتسر کے ایک ممتاز خاندان کے فرد ڈاکٹر حافظ بشیر کے گھرانے میں جنم لیا۔

تعلیم

گورنمنٹ کالج لاہور سے 1952ء میں نفسیات اور 1955ء میں فلسفے میں دوسرا ایم اے کیا۔

ادبی خدمات

شہزاد احمد کی شاعری کی پہلی کتاب ”صدف“ 1958ءمیں شائع ہوئی۔ اس کے بعد چھپنے والی کتابوں میں۔ ”جلتی بجھتی آنکھیں“…. ”ادھ کھلا در یچہ….”خالی آسمان“ ”بکھر جانے کی رُت“، ”دیوار پر دستک“…. ٹوٹا ہوا پُل“…. ”کون اسے جاتا دیکھے“…. پیشانی میں سورج“ اترے مری خاک پر ستارہ” اور مٹی جیسے لوگ“ بہت مشہور ہیں۔ پنجابی شاعری کی کتابیں اس سے الگ ہیں۔
شہزاد احمد کی نثر کی کتابوں میں ”مذہب، تہذیب اور موت“…. ”ذہن انسانی کا حیاتیاتی پس منظر“…. ”سائنسی انقلاب“ اور ”دوسرا رخ “ وغیرہ شامل ہیں۔ نوبل انعام یافتہ سائنس دان ڈاکٹر عبد السلام نے اپنی ایک کتاب ان سے ترجمہ کرائی جو ”ارمان اور حقیقت“ کے نام سے شائع ہوئی۔ تخلیقی رویے، سائنس کے عظیم مضامین اور نفسیاتی طریقِ علاج میں مسلمانوں کا حصہ ان کی ترجمہ شدہ کم از کم دس کتابیں اب بھی زیرِ اشاعت ہیں۔
شہزاد احمد شعر و نقد شعر کے علاوہ نفسیات اور فلسفہ کے موضوعات پر انتہائی اہم مضامین سپرد قلم کر چکے ہیں اور متعدد اہم ترین سائنسی موضوعات پر معروف کتب کے تراجم بھی ان کے نام کے ساتھ یادگار ہو چکے ہیں۔ اسلام اور فلسفہ ان کا محبوب موضوع ہے اور اس سلسلے میں ان کی تصانیف اور تراجم پاکستانی ادب کا بیش قیمت سرمایہ ہیں۔

تصانیف

  • صدف
  • جلتی بجھتی آنکھیں
  • آدھ کھلا دریچہ
  • خالی آسمان
  • بکھر جانے کی رت
  • ٹوٹا ہوا پل
  • کون اسے جاتا دیکھے
  • پیشانی میں سورج
  • اترے مری خاک پہ ستارہ
  • معلوم سے آگے
  • اندھیرا دیکھ سکتا ہے
  • ایک چراغ اور بھی
  • آنے والا کل
  • مٹی جیسے لوگ
  • دیوار پہ دستک(کلیات)

اعزازات

”صدف‘‘ 1958ء میں ان کی غزلوں کا پہلا مجموعہ ہے۔ ان کی غزلوں کے مجموعے ’’جلتی بھجتی آنکھیں‘‘ 1969ء پر آدم جی ادبی انعام دیا گیا۔ ’’پیشانی میں سورج’‘ پر انھیں ہجرہ (اقبال) ایوارڈ دیا گیا۔ 1997ء میں ان کی خدمات کے اعتراف میں انھیں صدارتی تمغا برائے حسن کارکردگی عطا کیا گیا۔ طالب علمی کے زمانے میں بھی ان کی صلاحیتوں کا اعتراف کیا جاتا رہا، انھیں 1952ء میں گورنمنٹ کالج لاہور کے ’’اکیڈمک رول آف آنر‘‘ سے نوازا گیا۔ وہ 50-1949ء کے دوران فلاسوفیکل سوسائٹی کے سیکرٹری بھی رہے۔ انھیں انجمن ترقی ادب کا بہترین مضمون نویسی کا ایوارڈ 1958ء، نقوش ایورڈ 1989ء اور مسعود کھدر پوش ایوارڈ 1997ء بھی مل چکا ہے۔ ’’بیاض‘‘ لاہور ان کی گراں قدر خدمات کے اعتراف کے طور پر ان کے نام سے معنون ایک خصوصی شمارہ بھی شائع کر چکا ہے۔ وہ مجلس ترقی ادب کے ڈائریکٹر بھی رہے، شہزاد احمد کو 2006ء میں مجلس ترقی ادب کا ناظم مقرر کیا گیا۔ قائد اعظمؒ لائبریری کے ادبی مجلہ ”مخزن“ کا مدیر بھی بنایا گیا۔

وفات

شہزاد احمد کا انتقال 1 اگست 2012ء بمطابق 12 رمضان المبارک 1433ھ بروز بدھ شام چار بجے لاہور میں ہوا۔ مرحوم کی عمر 80 برس تھی۔ شہزاد احمد نے سوگواران میں دو بیٹے اور تین بیٹیاں چھوڑی ہیں۔


نمونہ کلام

غزل

رخصت ہوا تو آنکھ ملا کر نہیں گیا
وہ کیوں گیا ہے یہ بھی بتا کر نہیں گیا
وہ یوں گیا کہ باد صبا یاد آ گئی
احساس تک بھی ہم کو دلا کر نہیں گیا
یوں لگ رہا ہے جیسے ابھی لوٹ آئے گا
جاتے ہوئے چراغ بجھا کر نہیں گیا
بس اک لکیر کھینچ گیا درمیان میں
دیوار راستے میں بنا کر نہیں گیا
شاید وہ مل ہی جائے مگر جستجو ہے شرط
وہ اپنے نقش پا تو مٹا کر نہیں گیا
گھر میں ہے آج تک وہی خوشبو بسی ہوئی
لگتا ہے یوں کہ جیسے وہ آ کر نہیں گیا
تب تک تو پھول جیسی ہی تازہ تھی اس کی یاد
جب تک وہ پتیوں کو جدا کر نہیں گیا
رہنے دیا نہ اس نے کسی کام کا مجھے
اور خاک میں بھی مجھ کو ملا کر نہیں گیا
ویسی ہی بے طلب ہے ابھی میری زندگی
وہ خار و خس میں آگ لگا کر نہیں گیا
شہزادؔ یہ گلہ ہی رہا اس کی ذات سے
جاتے ہوئے وہ کوئی گلہ کر نہیں گیا

غزل

پرانے دوستوں سے اب مروت چھوڑ دی ہم نے
معزز ہو گئے ہم بھی شرافت چھوڑ دی ہم نے
میسر آ چکی ہے سربلندی مڑ کے کیوں دیکھیں
امامت مل گئی ہم کو تو امت چھوڑ دی ہم نے
کسے معلوم کیا ہوگا مآل آئندہ نسلوں کا
جواں ہو کر بزرگوں کی روایت چھوڑ دی ہم نے
یہ ملک اپنا ہے اور اس ملک کی سرکار اپنی ہے
ملی ہے نوکری جب سے بغاوت چھوڑ دی ہم نے
ہے اتنا واقعہ اس سے نہ ملنے کی قسم کھا لی
تأسف اس قدر گویا وزارت چھوڑ دی ہم نے
کریں کیا یہ بلا اپنے لیے خود منتخب کی ہے
گلا باقی رہا لیکن شکایت چھوڑ دی ہم نے
ستارے اس قدر دیکھے کہ آنکھیں بجھ گئیں اپنی
محبت اس قدر کر لی محبت چھوڑ دی ہم نے
جو سوچا ہے عزیزوں کی سمجھ میں آ نہیں سکتا
شرارت اب کے یہ کی ہے شرارت چھوڑ دی ہم نے
الجھ پڑتے اگر تو ہم میں تم میں فرق کیا رہتا
یہی دیوار باقی تھی سلامت چھوڑ دی ہم نے
گنہ گاروں میں شامل مدعی بھی اور ملزم بھی
ترا انصاف دیکھا اور عدالت چھوڑ دی ہم نے

شہزاد احمد پر کتابیں

صفحہ 1

شہزاد احمد کی ترجمہ کردہ کتابیں

صفحہ 1

اردو کتابیں 2020ء۔ جملہ حقوق محفوظ ہیں

صرف کتاب ڈان لوڈ ہو سکتی ہے