Skip to content
سجاد مرزا

سجاد مرزا

1944 | گوجرانولہ ، پاکستان
اردو اور پنجابی شاعر

سجاد مرزا
معلومات شخصیت
اصل نامعبد الحمید بیگ
قلمی نامسجاد مرزا
پیدائش8 فروری 1944ء
فنشاعر، مصنف
زبان اردو، پنجابی
شہریتپاکستان

تصانیف

  • دشت تنہائی
  • سوچاں
  • اکھراں ہتھ زنجیراں

نمونہ کلام

نعت شریف

مسکن ہے جس حسیں کا مرے قلب زار میں
اس کی نمو ہے ہر شجر و برگ و بار میں
 
سورج میں، چاند میں وہ ستاروں میں جلوہ گر
فصلِ خزاں میں ہے وہی رنگ بہار میں
 
صبح چمن میں، پنچھیوں کے چہچہوں میں وہ
کوہ و دمن میں بھی وہی ہے مرغزار میں
 
اس کی محبتوں سے سجی ہے یہ کائنات
سارا نظام ہے اسی کے اختیار میں
 
جن و ملک بھی اس کی ہی قدرت کے شاہکار
روشن سویر میں وہی شب کے غبار میں
 
اس کی عنایتوں پہ ہماری جبیں ہے خم
وہ ہے ہمارے جسم کے ہر ایک تار میں
 
سجاد کیا بیاں ہو اس کردگار کا
اک لطف بے بہا ملا ہے جس کے پیار میں
 

غزل

جس کی آنکھوں میں کوئی رنگ شناسائی نہ تھا
اس سے ملنے کا مرا دل بھی تمنائی نہ تھا
ہم دیار غیر میں کہتے رہے ہیں دل کی بات
ایک اپنے شہر ہی میں اذن گویائی نہ تھا
جذبۂ دل کے بہک جانے سے رسوا ہو گئے
کوچۂ محبوب ورنہ کوئے رسوائی نہ تھا
ظلمت شب کو جہاں نور سحر کہتے تھے لوگ
میرا سچ کہنا سزاوار پذیرائی نہ تھا
داد بھی دیتا نہ تھا وہ میرے جذب شوق کی
خامشی آنکھوں میں لب پر حرف گویائی نہ تھا
تیری بے مہری نہ تھی کوتاہیٔ قسمت بھی تھی
کارزار دل میں ورنہ شوق پسپائی نہ تھا
میری اپنی ذات ہی اک انجمن سے کم نہ تھی
اس لیے سجادؔ مجھ کو خوف تنہائی نہ تھا

غزل

جس روز سے قرطاس پہ تحریر ہیں آنکھیں
اس روز سے لگتا ہے کہ تصویر ہیں آنکھیں
چہرے ہیں سبھی ایک سے گر شہر وفا میں
پھر تم ہی کہو کس کی یہ تفسیر ہیں آنکھیں
اپنوں نے مجھے لمس کی تبلیغ سے روکا
خود حرف محبت ہی کی تشہیر ہیں آنکھیں
جس دن سے کوئی قریۂ احساس سے گزرا
اس دن سے مرے واسطے زنجیر ہیں آنکھیں
یہ کس کے لئے دل میں تلاطم سا بپا ہے
یہ کس کے لئے آج بھی دلگیر ہیں آنکھیں
یہ کون سے منظر مری آنکھوں میں بسے ہیں
لگتا ہے مجھے وادئ کشمیر ہیں آنکھیں
سجادؔ سے کل اس نے بصد ناز کہا تھا
یہ دیکھ ترے خواب کی تعبیر ہیں آنکھیں

سجاد مرزا کی کتابیں

صفحہ 1

اردو کتابیں 2020ء۔ جملہ حقوق محفوظ ہیں

صرف کتاب ڈان لوڈ ہو سکتی ہے