ساقی جاوید
1925-1994 | کراچی ، پاکستان
شاعر ، ادیب
قوموں نغموں کے حوالے سے مشہور
| ساقی جاوید | |
| معلومات شخصیت | |
| اصل نام | سید شوکت علی |
| والد کا نام | سید ارشاد علی |
| پیدائش | 15 مارچ 1925 |ناگپور سی۔پی |
| وفات | 26 جنوری 1994ء | کراچی |
| پیشہ | تدریس |
| فن | شاعر |
| شہریت | پاکستان |
ادبی خدمات
اشعر اشتیاق سبحانی فیسبک پر لکھتے ہیں
”ساقی جاوید ایک معروف اردو شاعر ہیں جنہوں نے قومی و حب الوطنی کے موضوعات پر نہایت دلکش شاعری کی ہے۔ اگرچہ ان کے بارے میں تفصیلی سوانحی معلومات کم دستیاب ہیں، تاہم ان کی شاعری اردو ادب کے حلقوں میں خاصی مقبول ہے۔ ان کی کئی نظمیں اور اشعار اردو پوائنٹ، ریختہ اور دیگر ادبی پلیٹ فارمز پر موجود ہیں، جو ان کی ادبی خدمات کی گواہی دیتے ہیں۔
ساقی جاوید کی مشہور ترین نظم "چاند میری زمین، پھول میرا وطن” ایک حب الوطنی سے بھرپور نظم ہے جو پاکستان کی خوبصورتی، محنت کش عوام، فوجی جوانوں، کسانوں اور دانشوروں کی قربانیوں کو خراج تحسین پیش کرتی ہے۔ اس نظم میں وطنِ عزیز کو چاند اور پھولوں سے تشبیہ دے کر نہایت محبت بھرا انداز اپنایا گیا ہے۔
یہ نظم اُس وقت عوام میں مزید مقبول ہوئی جب اسے پاکستان کے عظیم کلاسیکل گلوکار استاد امانت علی خان نے نہایت خوبصورتی سے گایا۔ ان کی آواز اور اس نظم کے بول نے لوگوں کے دلوں میں وطن کی محبت کو اور بھی گہرا کر دیا۔“
تعلیم
| تعلیم | |
| بی۔ اے | ناگپور یونیورسٹی — ۱۹۴۹ء |
| بی۔ ایڈ | کراچی یونیورسٹی — ۱۹۶۱ء (اردو میں پہلی پوزیشن، اعزازی تمغہ) |
| ایم۔ اے اردو | کراچی یونیورسٹی — ۱۹۵۹ء (تیسری پوزیشن) |
تصانیف
- چاندی میری زمیں (شاعری)
- اردو ادب میں قومی جذبہ (تحقیقی مقالہ)
- ہماری تاریخ ہماری شجاعت(تحقیقی مقالات)
وفات
ساقی جاوید کراچی میں مقیم تھے۔ 26 جنوری 1994 کو کراچی میں وفات پا گئے ۔
نمونہ کلام
حمد باری تعالیٰ
| اللہ تُو ہے رحمت والا |
| نام ہے تیرا برکت والا |
| دیتی ہے ہر چیز گواہی |
| پاک ہے تیری ذات الٰہی |
| تُو ہی مالک ، تُو ہی رب ہے |
| مولا ! تیری شان عجب ہے |
| چاند اور سُورج ، پھُول اور تارے |
| تُو نے بنائے کتنے پیارے |
| ہم کو سیدھی راہ دکھانا |
| نیکی کے رستے پہ چلانا |
| ہمت دینا ، عزت دینا |
| علم کی یارب دولت دینا |
نغمہ
| چاند میری زمیں پھول میرا وطن |
| میرے کھیتوں کی مٹی میں لعل یمن |
| میرے ملاح لہروں کے پالے ہوئے |
| میرے دہقاں پسینوں کے ڈھالے ہوئے |
| میرے مزدور اس دور کے کوہ کن |
| چاند میری زمیں پھول میرا وطن |
| میرے فوجی جواں جرأتوں کے نشاں |
| میرے اہل قلم عظمتوں کی زباں |
| میرے محنت کشوں کے سنہرے بدن |
| چاند میری زمیں پھول میرا وطن |
| میری سرحد پہ پہرا ہے ایمان کا |
| میرے شہروں پہ سایہ ہے قرآن کا |
| میرا اک اک سپاہی ہے خیبر شکن |
| چاند میری زمیں پھول میرا وطن |
| میرے دہقاں یوں ہی ہل چلاتے رہیں |
| مری مٹی کو سونا بناتے رہیں |
| گیت گاتے رہیں میرے شعلہ بدن |
| چاند میری زمیں پھول میرا وطن |