زہرا نگاہ
1936 | کراچی ، پاکستان
پاکستان کی ممتاز ترین شاعرات میں نمایاں
زہرا نگاہ (پیدائش: 14 مئی، 1935ء) پاکستان سے تعلق رکھنے و الی اردو زبان کی بقید حیات نامور شاعرہ ہیں۔
| زہرا نگاہ | |
| معلومات شخصیت | |
| پیدائش | فاطمہ زہرہ 14 مئی 1935 (90 سال) حیدرآباد، دکن، برطانوی ہندوستان |
| قلمی نام | زہرا نگاہ |
| پیشہ | شاعرہ |
| زبان | اردو |
| نسل | مہاجر قوم |
| شہریت | پاکستانی |
| اصناف | غزل، نظم |
| نمایاں کام | شام کا پہلا تارا ورق |
| اہم اعزازات | صدارتی تمغا برائے حسن کارکردگی |
حالات زندگی
محترمہ زہرا نگاہ 14 مئی، 1936ء حیدرآباد، دکن، برطانوی ہندوستان میں علمی گھرانے میں پیدا ہوئیں۔ ان کا اصل نام فاطمہ زہرہ ہے۔ آپ کے والد قمر مقصود کا شمار بدایوں کے ممتاز لوگوں میں ہوتا ہے۔ جبکہ مشہور ڈراما نویس فاطمہ ثریا بجیا آپ کی بڑی بہن اور مقبول عام ہمہ جہت رائٹر انور مقصود بھائی ہیں۔ زہرا نگاہ کا خاندان تلاش معاش میں حیدر آباد دکن میں آباد ہو گیا۔ تقسیم ہند کے بعد زہرا نگاہ اپنے خاندان کے ساتھ حیدر آباد دکن سے ہجرت کر کے کراچی آ گئیں اور یہیں پر اپنی تعلیم مکمل کی۔
ادبی خدمات
زہرا نگاہ کو شعر و سخن کا ذوق ورثہ میں ملا۔ اس لیے آپ نے صرف گیارہ سال کی عمر میں ایک نظم گڑیا گڈے کی شادی لکھی۔ زہرا نگاہ نے جگر مراد آبادی کو اصلاح کی غرض سے ابتدائی کلام دکھایا مگر جگر مراد آبادی نے یہ کہہ کر اصلاح سے انکار کر دیا کہ تمھارا ذوقِ مستحسن خود ہی تمھارے کلام کی اصلاح کر دے گا۔
زہرا نگاہ کے کلام میں روزمرہ کی زندگی کے جذباتی معاملات ہیں، جنہیں زہرا صنف نازک کی شاعری کہتی ہیں۔ جیسے ملائم گرم سمجھوتے کی چادر، قصیدہ بہار، نیا گھر، علی اور نعمان کے نام، سیاسی واقعات کے تاثرات بھی، وہ وعدہ بھی جو انسانوں کی تقدیروں میں لکھا ہے اور محض تغزل بھی۔ ان منظومات میں نہ جدیدیت کے غیر شاعرانہ جذبات کا کوئی پرتو ہے اور نہ رومانویت کی شاعرانہ آرائش پسندی کا کوئی دخل ہے۔ روایتی نقش و نگار اور آرائشی رنگ و روغن کا سہارا لیے بغیر شعر کہنا زہرا نگاہ کے شعری اسلوب کا خاصا ہے۔ تشبیہ و استعارے سے عاری ایک آدھ بلیغ مصرع جس سے پوری نظم کا سراپا جھلملانے لگے، اس کی سب سے اچھی مثال زہرا کی نظم شام کا پہلا تارا ہے۔ ان کی تخلیقات میں شام کا پہلا تارا ، ورق اور فراق شامل ہیں۔
تصانیف
- شام کا پہلا تارا
- ورق
- مجموعہ کلام (کلیات)
- فراق
اعزازات
حکومت پاکستان نے ان کی خدمات کے صلے میں صدارتی تمغا برائے حسن کارکردگی کا اعزاز عطاکیا۔
نمونہ کلام
غزل
| نقش کی طرح ابھرنا بھی تمہی سے سیکھا |
| رفتہ رفتہ نظر آنا بھی تمہی سے سیکھا |
| تم سے حاصل ہوا اک گہرے سمندر کا سکوت |
| اور ہر موج سے لڑنا بھی تمہی سے سیکھا |
| اچھے شعروں کی پرکھ تم نے ہی سکھلائی مجھے |
| اپنے انداز سے کہنا بھی تمہی سے سیکھا |
| تم نے سمجھائے مری سوچ کو آداب ادب |
| لفظ و معنی سے الجھنا بھی تمہی سے سیکھا |
| رشتۂ ناز کو جانا بھی تو تم سے جانا |
| جامۂ فخر پہننا بھی تمہی سے سیکھا |
| چھوٹی سی بات پہ خوش ہونا مجھے آتا تھا |
| پر بڑی بات پہ چپ رہنا تمہی سے سیکھا |
غزل
| چھلک رہی ہے مئے ناب تشنگی کے لئے |
| سنور رہی ہے تری بزم برہمی کے لئے |
| نہیں نہیں ہمیں اب تیری جستجو بھی نہیں |
| تجھے بھی بھول گئے ہم تری خوشی کے لئے |
| جو تیرگی میں ہویدا ہو قلب انساں سے |
| ضیا نواز وہ شعلہ ہے تیرگی کے لئے |
| کہاں کے عشق و محبت کدھر کے ہجر و وصال |
| ابھی تو لوگ ترستے ہیں زندگی کے لئے |
| جہان نو کا تصور حیات نو کا خیال |
| بڑے فریب دئے تم نے بندگی کے لئے |
| مئے حیات میں شامل ہے تلخیٔ دوراں |
| جبھی تو پی کے ترستے ہیں بے خودی کے لئے |
سنا ہے (نظم)
| سنا ہے جنگلوں کا بھی کوئی دستور ہوتا ہے |
| سنا ہے شیر کا جب پیٹ بھر جائے تو وہ حملہ نہیں کرتا |
| درختوں کی گھنی چھاؤں میں جا کر لیٹ جاتا ہے |
| ہوا کے تیز جھونکے جب درختوں کو ہلاتے ہیں |
| تو مینا اپنے بچے چھوڑ کر |
| کوے کے انڈوں کو پروں سے تھام لیتی ہے |
| سنا ہے گھونسلے سے کوئی بچہ گر پڑے تو سارا جنگل جاگ جاتا ہے |
| سنا ہے جب کسی ندی کے پانی میں |
| بئے کے گھونسلے کا گندمی رنگ لرزتا ہے |
| تو ندی کی روپہلی مچھلیاں اس کو پڑوسن مان لیتی ہیں |
| کبھی طوفان آ جائے، کوئی پل ٹوٹ جائے تو |
| کسی لکڑی کے تختے پر |
| گلہری، سانپ، بکری اور چیتا ساتھ ہوتے ہیں |
| سنا ہے جنگلوں کا بھی کوئی دستور ہوتا ہے |
| خداوندا! جلیل و معتبر! دانا و بینا منصف و اکبر! |
| مرے اس شہر میں اب جنگلوں ہی کا کوئی قانون نافذ کر! |