Skip to content
رضا ہمدانی

رضا ہمدانی

1910-1999 | پشاور ، پاکستان
پاکستانی شاعر

رضا ہمدانی
معلومات شخصیت
پیدائش25 دسمبر 1910ء
پشاور
وفات10 جولا‎ئی 1994ء (84 سال)
پشاور
شہریت پاکستان
عملی زندگی
پیشہشاعر ، ادیب
پیشہ ورانہ زباناردو ، فارسی ، ہندکو ، پشتو

نام

نام مرزا رضا حسین اور رضا تخلص تھا۔ شاعر اور ادیب۔


پیدائش

دسمبر 1910ء کو پشاور میں پیدا ہوئے۔


تعلیم

کلام مجید کے چھ پارے حفظ کرنے کے بعد ابتدائی تعلیم حاصل کی، پشاور سے میٹرک، منشی اور پشتو فاضل کے امتحانات پاس کیے۔


صحافت

اردو اور فارسی میں شعر کہے۔ بزم سخن پشاور، ادبستان پشاور کے ناظم رہے۔ اور انجمن ترقی اردوسرحد کے سیکرٹری بھی رہے۔1938ء میں ماہنامہ ند 1939ء میں ہفتہ وار شباب پشاور سے اور 1940ء میں ہفتہ وار اخبار شباب لاہور سے نکالا۔


شعر و ادب

رضا ہمدانی اردو کے علاوہ فارسی، ہندکو اور پشتو میں بھی شعر کہتے تھے۔ کئی رسائل کے مدیر رہے۔ انھوں نے ہند کو فلموں ’’قصہ خوانی‘‘ اور ’’بدمعاش‘‘ کے لیے گیت بھی لکھے۔ رضا ہمدانی کی تصانیف ایک درجن کے قریب ہیں۔ جو ادبی ،ثقافتی اور تاریخی وسوانحی، دینی و مذہبی موضوعات سے متعلق ہیں۔


تصانیف

  • مراۃ الاسلام
  • جمال الدین افغانی
  • خوشحال خان کے افکار
  • رحمان بابا کے افکار
  • ادیبات سرحد
  • رگ مینا
  • صلیب فکر

اعزازات

ان کی بعض تصانیف پر رائٹرز گلڈ ، اباسین آرٹ کونسل اور یونیسکو کی جانب سے انعامات مل چکے ہیں۔


وفات

پشاور میں 10 جولائی 1999ء کو 89 سال کی عمر میں وفات پائی۔


نمونہ کلام

غزل

یہ دور مسرت یہ تیور تمہارے
ابھرنے سے پہلے نہ ڈوبیں ستارے
بھنور سے لڑو تند لہروں سے الجھو
کہاں تک چلو گے کنارے کنارے
عجب چیز ہے یہ محبت کی بازی
جو ہارے وہ جیتے جو جیتے وہ ہارے
سیہ ناگنیں بن کے ڈستی ہیں کرنیں
کہاں کوئی یہ روز روشن گزارے
سفینے وہاں ڈوب کر ہی رہے ہیں
جہاں حوصلے ناخداؤں نے ہارے
کئی انقلابات آئے جہاں میں
مگر آج تک دن نہ بدلے ہمارے
رضاؔ سیل نو کی خبر دے رہے ہیں
افق کو یہ چھوتے ہوئے تیز دھارے

غزل

چڑھتے ہوئے دریا کی علامت نظر آئے
غصے میں وہ کچھ اور قیامت نظر آئے
گم اپنے ہی سائے میں ہیں ہٹ جائیں تو شاید
کھویا ہوا اپنا قد و قامت نظر آئے
کیا قہر ہے ہر سینے میں اک حشر بپا ہے
اک آدھ گریباں تو سلامت نظر آئے
کوچے سے ترے نکلے تو سب شہر تھا دشمن
ہر آنکھ میں کچھ سنگ ملامت نظر آئے
ہم کیسے یہ سمجھیں کہ پشیمان ہے قاتل
چہرے پہ نہ جب حرف ندامت نظر آئے
ہم مورد الزام سمجھتے رہے ان کو
دیکھا تو رضاؔ ہم ہی ملامت نظر آئے

اردو کتابیں 2020ء۔ جملہ حقوق محفوظ ہیں

صرف کتاب ڈان لوڈ ہو سکتی ہے