Skip to content
رحمان خاور

رحمان خاور

معروف اردو شاعر

رحمان خاور
معلومات شخصیت
اصل نامضلع الرحمن خان
قلمی نامرحمان خاور
والد کا ناممولوی بنے خان سرخوش شادانی
پیدائش3 جنوری 1937ء | رام پور ، انڈیا
فنشاعر
شہریتپاکستان

حالات زندگی

ظل الرحمن خان ریاست رام پور کے ادبی گہوارے میں ۳ جنوری ۱۹۳۷ ء کو مولوی بنے خان سرخوش شادانی کے گھر پیدا ہوئے ۔ ریاست رام پور کی ادبی، ثقافتی اور علمی خدمات کو ہمیشہ تاریخ میں یاد رکھا جائے گا۔ نواب کلب علی خان صاحب کی فیاض طبیعت نے علم و ادب کو فروغ دینے میں اہم کردار ادا کیا تھا۔ نواب کا زمانہ ریاست رام پور کی تاریخ ادب میں سنگ میل کی حیثیت رکھتا ہے۔ جب کہ دنیائے ادب کی مشہور و معروف ہستیاں ریاست رام پور میں قیام پذیر تھیں۔ مرزا داغ دہلوی، امیر اللہ نسلیم ، امیر مینائی اور ان تینوں کے ہم عصر جلال لکھنوی بھی وہاں موجود تھے۔

ظل الرحمن جو رحمن خاور کے نام سے جانے پہچانے جاتے ہیں اُن کا خمیر اس مٹی سے اُٹھا ہے۔ موصوف کا تاریخی نام بخت یار عالم ہے۔ مروجہ تعلیم ایم اے اُردو ہے۔ گورنمنٹ اسلامیہ آرٹس و کامرس کالج میں معلم رہے۔ مرزا عابد علی بیگ سحر رام پوری سے شرف تلمذ حاصل تھا۔ جنوری ۱۹۵۸ رام پور سے ہجرت کر کے کراچی آ گئے ریڈیو پاکستان کراچی سے کمرشیل سروس کے لیے اسکرپٹ لکھتے رہے۔ اسلامیہ کالج سے ۱۹۸۹ میں ریٹائر ہو گئے۔


ادبی خدمات

۳۸ سال سے شفیع عاصیاں جناب سرور کونین صلی اللہ تعالی علیہ وسلم کی مدح سرائی میں مگن ہیں۔ آپ کراچی میں مقیم رہے۔ پھر اپنے بیٹے کے ساتھ کنیڈا میں رہائش پذیر ہو گئے اور اب وہاں کی ادبی سرگرمیوں میں حصہ لے رہے ہیں۔


تصانیف

  • روایت
  • میرے گیت میری نظمیں
  • بعد از خدا بزرگ توئی
  • محراب حرم

نمونہ کلام

حمد باری تعالیٰ

تو ہی خالقِ ہر دو عالم ہے یا رب
تری ذات سب پر مقدم ہے یا رب
ترے ہی سبب سے ہے رونق جہاں کی
تو ہی دلکشی بزم کون و مکاں کی
مہہ و مہر کو روشنی تو نے دی ہے
گل و غنچہ کو تازگی تونے دی ہے
چمن کے نظاروں میں جلوے ترے ہیں
ہواؤں کی سانسوں میں نغمے ترے ہیں
ستاروں کی گردش اشاروں پہ تیرے
ہر ایک چیز قائم سہارے پہ تیرے
کرم مستقل، بے کراں تیری رحمت
کہ دی خاک کو زندگی کی حرارت
تو ہی اے خدا مالکِ بحر و بر ہے
تری حکمرانی میں سب خشک و تر ہے
عجب مرتبہ ہے ترا مرتبہ بھی
ہے عاجز یہاں اپنا فہمِ رسا بھی
کہاں تیری توصیف ممکن زباں سے
ترے وصف باہر ہیں حدِ بیاں سے

غزل

میں جب پہلے پہل اس شہر نا پرساں میں آیا تھا
سبھی اپنے نظر آتے تھے لیکن کون اپنا تھا
حسیں تھے دور ہی سے ساحل و دریا کے نظارہ
مگر جب ڈوب کر دیکھا تو ساحل تھا نہ دریا تھا
اسے ان فاصلوں کا کچھ نہ کچھ احساس تو ہوگا
کبھی جس شخص کے سینے میں میرا دل دھڑکتا تھا
سمٹ آیا ہو جیسے درد میرا اس کے لہجے میں
نہ جانے آج کس عالم میں اس نے حال پوچھا تھا
کہاں تک دل میں شہر آرزو آباد رکھتے ہم
جب اپنے سامنے حد نظر تک غم کا صحرا تھا
جہاں بھر کو خبر کیسے ہوئی ترک تعلق کی
مجھے تم سے تعلق تھا جہاں سے واسطہ کیا تھا

غزل

عشق کرنے کا ارادہ ہو تو ہم سے ملنا
تم کو خود سے کبھی ملنا ہو تو ہم سے ملنا
قابل دید ہیں سب زخم ہمارے دل کے
آپ کو شوق تماشا ہو تو ہم سے ملنا
سایۂ گل میں ملاقات رہے گی تم سے
موسم گل میں جو تنہا ہو تو ہم سے ملنا
بے سبب ہم بھی کسی سے نہیں ملتے صاحب
تم بھی ملنے کی تمنا ہو تو ہم سے ملنا
وعدۂ وصل تو لیتے نہیں تم سے لیکن
اتفاقاً ادھر آنا ہو تو ہم سے ملنا
اپنی آنکھوں کے لئے خواب کہاں فرقت میں
خواب تم نے کوئی دیکھا ہو تو ہم سے ملنا
اپنا در سب پہ کھلا ہے کوئی اپنا ہو کہ غیر
کسی درویش سے ملنا ہو تو ہم سے ملنا

رحمان خاور کی کتابیں

صفحہ 1

اردو کتابیں 2020ء۔ جملہ حقوق محفوظ ہیں

صرف کتاب ڈان لوڈ ہو سکتی ہے