رئیس احمد جعفری
1914—1968 | لاہور ، پاکستان
معروف پاکستانی ناول نگار اور ادیب
سید رئیس احمد جعفری ندوی (پیدائش: 23 مارچ، 1914ء – وفات: 27 اکتوبر، 1968ء) پاکستان سے تعلق رکھنے والے اردو کے نامور صحافی، مورخ، ماہرِ اقبالیات، ناول نگار، مترجم اور سوانح نگار تھے۔
| رئیس احمد جعفری | |
| معلومات شخصیت | |
| پیدائش | 23 مارچ 1914ء لکھیم پور، اترپردیش |
| وفات | 27 اکتوبر 1968ء (54 سال) کراچی |
| شہریت | برطانوی ہند پاکستان |
| عملی زندگی | |
| مادر علمی | دار العلوم ندوۃ العلماء جامعہ ملیہ اسلامیہ |
| استاذ | مولانا حیدر حسن خان |
| پیشہ | صحافی ، مترجم ، مورخ ، ناول نگار |
| پیشہ ورانہ زبان | اردو |
| شعبۂ عمل | تاریخ ہند ، سوانح ، ترجمہ ، تاریخ اسلام ، ناول |
| اعزازات | |
| تمغائے حسن کارکردگی | |
حالات زندگی
رئیس احمد جعفری 23 مارچ 1914ء کو لکھیم پور، اترپردیش، برطانوی ہندوستان میں پیدا ہوئے۔ انھوں نے ندوۃ العلما، لکھنؤ اور جامعہ ملیہ اسلامیہ، دہلی سے تعلیم حاصل کی تھی۔ زمانۂ طالب علمی ہی سے ان کے مضامین مختلف اخبارات و جرائد میں شائع ہونے لگے تھے۔
ء میں مولانا محمد علی جوہر کی وفات کے بعد ان کی کی سوانح عمری سیرت محمد علی کے نام سے تحریر کی۔ 1934ء میں مولانا شوکت علی نے انھیں روزنامہ خلافت بمبئی کا مدیر مقرر کیا۔ مولانا شوکت علی کی وفات کے بعد وہ روزنامہ ہندوستان اور روزنامہ انقلاب، لاہور جیسے اخبارات کے مدیر رہے۔ 1949ء میں وہ پاکستان چلے آئے، پاکستان میں بھی وہ کئی اخبارات اور جرائد کے مدیر اور نائب مدیر رہے جن میں روزنامہ خورشید، ماہنامہ ریاض، روزنامہ زمیندار اور سہ ماہی ثقافت کے نام سرفہرست ہیں۔
تصانیف
رئیس احمد جعفری کی تصانیف، تراجم اور تالیفات کی تعداد 300 سے زائد ہے جن میں اقبال اور عشق رسولؐ، دیدو شنید، علی برادران، اوراق گم گشتہ، اقبال اور سیاست ملی، واجد علی شاہ اور ان کا عہد، تاریخِ تصوّف، تاریخ دولت فاطمیہاور بہادر شاہ ظفر اور ان کا عہد زیادہ مشہور ہیں۔
اعزازات
حکومت پاکستان نے رئیس احمد جعفری کی خدمات کے اعتراف کے طور پر 14 اگست، 1966ء میں انھیں صدارتی اعزاز برائے حسن کارکردگی کا اعزاز عطا کیا۔
وفات
رئیس احمد جعفری 27 اکتوبر، 1968ء کو پاکستان میں وفات پا گئے۔ وہ سوسائٹی قبرستان میں آسودہ خاک ہیں۔