خاطر غزنوی
1925-2008 | پشاور ، پاکستان
اپنی غزل ’گو ذرا سی بات پر برسوں کے یارانے گئے“ کے لیے مشہور، جسے کئی گایکوں نے آواز دی ہے
پروفیسر خاطر غزنوی (پیدائش: 25 نومبر، 1925ء – وفات: 7 جولائی، 2008ء) پاکستان سے تعلق رکھنے والے اردو اور ہندکو کے ممتاز شاعر، ادیب، نقاد، پشاور یونیورسٹی کے استاد اور اکادمی ادبیات پاکستان کے سابق ڈائریکٹر جنرل تھے۔
| خاطر غزنوی | |
| معلومات شخصیت | |
| پیدائش | 5 نومبر 1925ء غزنی |
| وفات | 7 جولائی 2008ء (83 سال) کراچی |
| مدفن | پشاور |
| شہریت | پاکستان |
| عملی زندگی | |
| مادر علمی | جامعۂ پشاور |
| تحریک | ترقی پسند تحریک |
حالات زندگی
خاطر غزنوی 25 نومبر، 1925ء کو اس وقت کے برطانوی ہندوستان کے شہر پشاور میں پیدا ہوئے۔ ان کا اصل نام مرزا ابراہیم بیگ اور خاطر تخلص تھا۔ انھوں نے عملی زندگی کا آغاز ریڈیو پاکستان پشاور سے کیا۔ بعد ازاں پشاور یونیورسٹی سے اردو میں ایم اے اور پی ایچ ڈی کیا اور اسی شعبہ میں تدریس کے پیشے سے وابستہ ہوئے۔ اس دوران وہ دو ادبی جرائد سنگ میل اور احساس سے منسلک رہے۔ 1984ء میں انھیں اکادمی ادبیات پاکستان کا ڈائریکٹر جنرل مقرر کیا گیا۔
تصانیف
شاعری
- روپ رنگ
- خواب درخواب
- شام کی چھتری
- کونجاں
نثر
- اُردو زبان کا مآخذ ہندکو
- زندگی کے لیے پھول
- پھول اور پتھر
- چٹانیں اور رومان
- رزم نامہ
- سرحد کے رومان
- پشتو متلونہ
- دستار نامہ
- پٹھان اور جذباتِ لطیف
- خوش حال نامہ
- چین نامہ
- اصناف ادب
- ایک کمرہ
- جدید اُردو ادب
اعزازات
حکومت پاکستان نے خاطر غزنوی کی ادبی خدمات کے اعتراف کے طور پر صدراتی تمغا برائے حسن کارکردگی عطا کیا۔
وفات
خاطر غزنوی 7 جولائی، 2008ء کو پشاور، پاکستان میں وفات پاگئے اور قبرستان رحمٰن بابا پشاور میں آسودۂ خاک ہوئے۔
نمونہ کلام
غزل
| گو ذرا سی بات پر برسوں کے یارانے گئے |
| لیکن اتنا تو ہوا کچھ لوگ پہچانے گئے |
| گرمئ محفل فقط اک نعرۂ مستانہ ہے |
| اور وہ خوش ہیں کہ اس محفل سے دیوانے گئے |
| میں اسے شہرت کہوں یا اپنی رسوائی کہوں |
| مجھ سے پہلے اس گلی میں میرے افسانے گئے |
| وحشتیں کچھ اس طرح اپنا مقدر بن گئیں |
| ہم جہاں پہنچے ہمارے ساتھ ویرانے گئے |
| یوں تو وہ میری رگ جاں سے بھی تھے نزدیک تر |
| آنسوؤں کی دھند میں لیکن نہ پہچانے گئے |
| اب بھی ان یادوں کی خوشبو ذہن میں محفوظ ہے |
| بارہا ہم جن سے گلزاروں کو مہکانے گئے |
| کیا قیامت ہے کہ خاطرؔ کشتۂ شب تھے بھی ہم |
| صبح بھی آئی تو مجرم ہم ہی گردانے گئے |
غزل
| کیسی چلی ہے اب کے ہوا تیرے شہر میں |
| بندے بھی ہو گئے ہیں خدا تیرے شہر میں |
| تو اور حریم ناز میں پابستۂ حنا |
| ہم پھر رہے ہیں آبلہ پا تیرے شہر میں |
| کیا جانے کیا ہوا کہ پریشان ہو گئی |
| اک لحظہ رک گئی تھی صبا تیرے شہر میں |
| کچھ دشمنی کا ڈھب ہے نہ اب دوستی کا طور |
| دونوں کا ایک رنگ ہوا تیرے شہر میں |
| شاید تجھے خبر ہو کہ خاطرؔ تھا اجنبی |
| لوگوں نے اس کو لوٹ لیا تیرے شہر میں |