حنیف اسعدی
1919 | شاہ جہاں پور
پاکستانی نعتیہ شاعر
| حنیف اسعدی | |
| معلومات شخصیت | |
| اصل نام | حنیف احمد |
| قلمی نام | حنیف اسعدی |
| والد کا نام | محمد صدیق حسن اسعد شاہ جہاں پوری |
| پیدائش | 1919 شاہ جہاںپور ہندوستان |
| وفات | کراچی ، پاکستان |
| تعلیم | بی اے |
| فن | شاعری |
| شہریت | پاکستان |
تصانیف
- ذکر خیر الانام
نمونہ کلام
نعت شریف
| کوئی ان کے بعد نبی ہوا ؟نہیں ان کے بعد کوئی نہیں |
| کہ خدا نے خود بھی تو کہدیا ، نہیں ان کے بعد کوئی نہیں |
| کوئی ایسی ذاتِ ہمہ صفت، کوئی ایسا نورِ ہمہ جِہت |
| کوئی مصطفےٰ، کوئی مجتبےٰ ، نہیں ان کے بعد کوئی نہیں |
| بجز ان کے رحمتِ ہر زماں، کوئی اور ہو تو بتایئے |
| نہیں ان سے پہلے کوئی نہ تھا، نہیں ان کے بعد کوئی نہیں |
| کسی ایسی ذات کا نام لو جو امیں بھی ہو جو اماں بھی ہو |
| یہ مرے یقیں کا ہے فیصلہ ،نہیں ان کے بعد کوئی نہیں |
| یہ نگار خانہء روزو شب‘ اُسی مبتدا کی خبر ہے سب |
| مگر ایسا جلوہء حق نما، نہیں ان کے بعد کوئی نہیں |
| یہ سوال تھا کوئی اور بھی ہے گناہگاروں کا آسرا |
| تورواں رواں یہ پکار اٹھا،نہیں ان کے بعد کوئی نہیں |
| وہ قدم اٹھے تو بیک قدم ہمہ کائنات تھی زیرِپا |
| یہ بلندیا ں کوئی چھو سکا،نہیں ان کے بعد کوئی نہیں |
غزل
| ابھی نہ جاؤ ابھی راستے سجے بھی نہیں |
| ابھی چراغ سر کہکشاں جلے بھی نہیں |
| جبین چرخ پہ گلگونۂ شفق مل کر |
| ابھی تو شام کے سائے کہیں گئے بھی نہیں |
| ابھی ابھی تو جمائی ہے میں نے بزم خیال |
| ابھی افق بہ افق بام و در سجے بھی نہیں |
| عروس شب نے ابھی چاندنی اتاری ہے |
| ابھی تو گیسوئے شب ٹھیک سے کھلے بھی نہیں |
| ابھی سے ترک تعلق کے مشورے تو نہ دو |
| ابھی تو یادوں کے سارے دیے بجھے بھی نہیں |
| مرے سفر میں ستارے تھے بس شریک سفر |
| یہ راہ رو تو مری رہگزر کے تھے بھی نہیں |
غزل
| میں جو اپنے حال سے کٹ گیا تو کئی زمانوں میں بٹ گیا |
| کبھی کائنات بھی کم پڑی کبھی جسم و جاں میں سمٹ گیا |
| یہی حال ہے کئی سال سے نہ قرار دل نہ سکون جاں |
| کبھی سانس غم کی الٹ گئی کبھی رشتہ درد سے کٹ گیا |
| مری جیتی جاگتی فصل سے یہ سلوک باد سموم کا |
| مری کشت فکر اجڑ گئی مرا ذہن کانٹوں سے پٹ گیا |
| نہ دیار درد میں چین ہے نہ سکون دشت خیال میں |
| کبھی لمحہ بھر کو دھواں چھٹا تو غبار راہ میں اٹ گیا |
| نہ وہ آرزو نہ وہ جستجو نہ وہ رنگ جامۂ بے رفو |
| بھلا اس وجود کا وزن کیا جو مدار شوق سے ہٹ گیا |
| نہ وہ کیف شب نہ وہ ماہ شب نہ وہ کاروان غزال شب |
| جہاں ذکر ہجر و وصال تھا وہ ورق ہی کوئی الٹ گیا |