Skip to content
حسین سحر

حسین سحر

1942-2016 | ملتان ، پاکستان
نقاد، محقق ، شاعر

حسین سحر
معلومات شخصیت
اصل نامخادم حسین
قلمی نامحسین سحر
پیدائش10 اکتوبر 1942ء | قصبہ جلال پور ضلع فیروزپور
وفاتستمبر 2016ء | ملتان ، پاکستان
فننقاد ، محقق ، شاعر ، ادیب
شہریتپاکستان

پیدائش

اصل نام خادم حسین تھا۔ 10 اکتوبر 1942ء کو ضلع فیروزپور کے قصبے جلال آباد میں پیدا ہوئے۔ پاکستان بننے کے بعد پہلے بھارت سے قصور پہنچے اور پھر مارچ 1948ء میں ملتان آئے۔ ان کے والد برکت علی بھی پنجابی کے شاعر تھے۔


تعلیم

خادم حسین نے 1953ء میں اسلامیہ ہائی اسکول عام خاص باغ میں چھٹی جماعت میں داخلہ لیا۔`1956ء میں بزم طلوع ادب کے زیراہتمام ٹاﺅن ہال گھنٹہ گھر ملتان میں زندگی کاپہلا مشاعرہ پڑھا۔آپ پہلے خادم حسین خادم کے نام سے شعر کہتے رہے۔ پھر ایک طویل عرصہ تک سحر ررومانی کے نام سے پہچانے گئے۔ 1958ءمیں ایمرسن کالج، ملتان میں داخلہ لیا اور کالج میگزین نخلستان کے ایڈیٹر بنے۔ یکم جنوری 1962ء کو شادی ہوئی۔ اس برس بی اے کے امتحان میں کامیابی کے بعد یونیورسٹی اورینٹل کالج لاہور میں ایم اے اردو میں داخلہ لیا۔


تدریس

ء میں لیکچرار منتخب ہوئے اور 1970ء کے اواخر میں ایس ای کالج، بہاولپور میں تبادلہ ہو گیا۔1971ء میں انٹر کالج۔ ملتان میں تعینات ہوئے جسے بعد ازاں گورنمنٹ کالج سول لائنز، ملتان کا نام دیا گیا۔ شعبہ تعلیم میں آپ نے پرنسپل کے عہدے تک ترقی حاصل کی۔ گورنمنٹ ولایت حسین اسلامیہ کالج، ملتان میں پرنسپل کی حیثیت سے بھی خدمات انجام دیں۔20 مئی1997ء کو قبل ازوقت ریٹائرمنٹ لی ۔


تصانیف

حسین سحر 60 کتابوں کے مصنف تھے جن میں غزل، نظم، نعت ،منقبت ،سلام اور تنقید و تحقیق کی کئی کتابیں شامل ہیں۔ انھوں نے قرآن پاک کا منظوم اردو ترجمہ ”فرقان عظیم “کے نام سے کیا۔ ان کی خودنوشت ” شام و سحر“ کے نام سے شائع ہوئی جو ان کی وفات کے ایک برس بعد منظرعام پر آئی۔


اعزازات

پروفیسر حسین سحر کو ان کی دینی خدمات پر دو مرتبہ صدارتی ایوارڈ دیا گیا۔


وفات

ستمبر 2016ء کو ملتان میں حرکت قلب بند ہو جانے سے انتقال کر گئے۔


نمونہ کلام

غزل

اتنی سی اس جہاں کی حقیقت ہے اور بس
گفتار زیر لب ہے سماعت ہے اور بس
کیوں آشنائے چشم ہو دیدار حسن کا
یہ گریہ آزمائی تو عادت ہے اور بس
اتنے سے جرم پر تو نہ مجھ کو تباہ رکھ
تھوڑی سی مجھ میں تیری شباہت ہے اور بس
اس کو جزا سزا کے مراحل میں دے دیا
جس پاس ایک عمر کی مہلت ہے اور بس
آیا جو دور دشت اچانک ہی سامنے
ایسا لگا کہ تیری اجازت ہے اور بس
ہم نے کہا کہ ختم ہوئے سب معاملات
دل نے کہا کہ کیا ہے؟ قیامت ہے! اور بس
آئینہ دار ہوں کہ ترا پردہ دار ہوں
پیش نگاہ تیری محبت ہے اور بس

غزل

کرن کرن کے درخشندہ باب میرے ہیں
تمام روشنیوں کے نصاب میرے ہیں
شبوں کے سبز جزیرے ہیں سب مری اقلیم
تمام جاگتی آنکھوں کے خواب میرے ہیں
میں ہوں تمام دھڑکتے دلوں کا شیدائی
یہ آبگینے یہ نازک حباب میرے ہیں
تمام عمر تخاطب مرا مجھی سے رہا
سوال میں نے کئے ہیں جواب میرے ہیں
خدائے دشت کی تقسیم پر میں راضی ہوں
کہ آب پارے ترے ہیں سراب میرے ہیں
نصیب آج ہیں کانٹے اگر تو کیا غم ہے
نئی رتوں کے شگفتہ گلاب میرے ہیں
میں آفتاب کے مانند ہوں نقیب سحرؔ
سیاہیوں پہ سبھی احتساب میرے ہیں

حسین سحر کی ترتیب کردہ کتابیں

صفحہ 1

حسین سحر کی کتابیں

صفحہ 1

اردو کتابیں 2020ء۔ جملہ حقوق محفوظ ہیں

صرف کتاب ڈان لوڈ ہو سکتی ہے