حبیب عاصم
اردو ناول نگار اور شاعر
| حبیب عاصم | |
| معلومات شخصیت | |
| قلمی نام | حبیب عاصم |
| تخلص | عاصم |
| پیدائش | 14 نومبر 1939ء | دلی |
| فن | مصنف، شاعر |
| اصناف ادب | شاعری، ناول |
| زبان | اردو |
تصانیف
- مرجھائے ہوئے پھول (ناول)
نمونہ کلام
غزل
| جینے کا تو نے روز نیا مشغلہ دیا |
| اک غم ہٹا نہیں کہ ہمیں دوسرا دیا |
| یہ سوچئے کہ آپ سے دنیا کو کیا ملا |
| مت سوچئے کہ آپ کو دنیا نے کیا دیا |
| ہر ایک میں ہے پیار کی خوشبو بسی ہوئی |
| تو نے تو جو بھی زخم دیا کام کا دیا |
| مایوس زندگی کی تھکن لے کے سو گئے |
| اٹھے تو پھر خدا نے نیا حوصلہ دیا |
| مانوس اس قدر ہیں ترے غم سے ان دنوں |
| ہر اک خوشی کو سایۂ غم میں سلا دیا |
| آئینہ توڑ دے گا وہ چہرے کو دیکھ کر |
| معلوم تھا تو پھر اسے کیوں آئنہ دیا |
| اک شاعر و ادیب کی ہے تم کو جستجو |
| عاصمؔ کا پھر بتاؤ یہ کس نے پتہ دیا |