حبیب جالب
1928—1993 | لاہور ، پاکستان
مقبول انقلابی پاکستانی شاعر
سیاسی جبر کی مخالفت کے لئے مشہور
حبیب جالب (24 مارچ 1928 -13 مارچ 1993) بیسوی صدی کے ایک نامور اشتراکیت پسند انقلابی اردو شاعر تھے۔اپنی فعالیت کے ذریعے استبداد، ریاستی ظلم اور فوجی حکمرانی کا سخت مخالف رہے۔فوجی انقلابات کی مزاحمت کرنے کے وجہ سے کئی بار قید میں جانے پرے۔ پاکستانی انقلانی شاعر اور ہم عصر فیض احمد فیض کے مطابق جالب ایک عوامی شاعر تھے۔
| حبیب جالب | |
| معلومات شخصیت | |
| پیدائش |
24 مارچ 1928ء ہشیار پور، برطانوی پنجاب |
| وفات |
13 مارچ 1993ء (65 سال) لاہور، پاکستان |
| مدفن | سبزہ زار، لاہور |
| شہریت |
پاکستان برطانوی ہند |
| جماعت | کمیونسٹ پارٹی آف پاکستان |
| عملی زندگی | |
| پیشہ | شاعر، غنائی شاعر، نغمہ نگار، کارکنِ انسانی حقوق |
| پیشہ ورانہ زبان | اردو |
| تحریک | ترقی پسند تحریک |
| اعزازات | |
| نگار اعزاز | |
حالات زندگی
مارچ 1928ء میں قصبہ دسویا ضلع ہوشیار پور، صوبہ پنجاب میں پیدا ہوئے۔ ان کی پیدائش عید الفطر کے دن ہوئی،اینگلو عربک ہائی اسکول دہلی سے دسویں جماعت کا امتحان پاس کیا۔ بعد ازاں گورنمنٹ ہائی اسکول جیکب لائن کراچی سے مزید تعلیم حاصل کی، روزنامہ جنگ اور پھر لائلپور ٹیکسٹائل مل سے روزگار کے سلسلے میں منسلک ہوئے۔
پہلا مجموعہ کلام برگ آوارہ کے نام سے 1957ء میں شائع کیا، مختلف شہروں سے ہجرت کرتے ہوئے بالآخر لاہور میں مستقل آباد ہو گئے اور ان کا یہ شعر ہمیشہ کے لیے امر ہو گیا۔ یہ اعجاز ہے حسن آوارگی کا جہاں بھی گئے داستاں چھوڑ آئے آزادی کے بعد کراچی آ گئے اور کچھ عرصہ معروف کسان رہنما حیدر بخش جتوئی کی سندھ ہاری تحریک میں کام کیا۔ یہیں ان میں طبقاتی شعور پیدا ہوا اور انھوں نے معاشرتی ناانصافیوں کو اپنی نظموں کا موضوع بنایا۔ 1956ء میں لاہور میں رہائش اختیار کی۔
تصانیف
- صراط مستقیم
- ذکر بہتے خوں کا
- گنبدِ بے در
- کلیات حبیب جالب
- اس شہرِ خرابی میں
- گوشے میں قفس کے
- حرفِ حق
- حرفِ سرِ دار
- احادِ ستم
- رات کلیہنی
اعزازات
- ان کو نگار فلمی ایوارڈ سے نوازا گیا۔
- اس کے علاوہ 2006ء سے ان کے نام سے حبیب جالب امن ایوارڈ کا اجرا کیا گیا۔
وفات
ان کا انتقال 13 مارچ 1993ء کو ہوا۔ لاہور کے قبرستان سبزہ زار میں دفن ہیں۔