انور شعور
1943 | کراچی پاکستان
پاکستان کے ممتاز ترین شاعروں میں سے ایک
ایک اخبار میں روزانہ حالات حاضرہ پر ایک قطعہ لکھتے ہیں
| انور شعور | |
| معلومات شخصیت | |
| پیدائش |
11 اپریل 1943ء (83 سال) سیونی، مدھیہ پردیش، برطانوی ہند |
| شہریت | پاکستان |
| عملی زندگی | |
| پیشہ | شاعر |
| پیشہ ورانہ زبان | اردو |
| شعبۂ عمل | غزل، قطعہ |
| ملازمت | اخبار جہاں |
| اعزازات | |
| تمغائے حسن کارکردگی | |
حالات زندگی
انور شعور 11 اپریل، 1943ء کو سیونی، برطانوی ہندوستان میں اشفاق حسین خاں کے گھر پیدا ہوئے۔ تقسیم ہند کے فوراً بعد ان کے اہل خاندان کراچی منتقل ہو گئے۔ پہلے انجمن ترقی اردو پاکستان اور پھر اخبار جہاں سے وابستہ رہے۔ بعد ازاں سب رنگ کراچی سے متعلق رہے۔ آج کل روزنامہ جنگ میں ایک قطعہ روز لکھتے ہیں۔ ان کا کلام فنون، سویرا اور دوسرے رسائل میں شائع ہوتا رہتا ہے۔
ادبی خدمات
انور شعور دور جدید کے معتبر شاعر ہیں۔ عام فہم اور سادہ شاعری کرنے کی وجہ سے ان کو سہلِ ممتنع کا شاعر سمجھا جانے لگا ہے۔ چھوٹی بحروں میں ان کے کئی ایک اشعار زبان زدِ عام ہیں۔ انور شعور جدید غزل کے نمائندہ شعرا میں شمار ہوتے ہیں، جبکہ قطعہ نگاری بھی ان کی شہرت کا ایک بنیادی حوالہ ہے۔ ان کی شاعری میں شریک موضوعات انتہائی حساس نوعیت کے ہیں، جو انسان کے داخلی اور خارجی معاملات سے مکالمہ کرتے ہیں۔ رومانویت اور جمالیات کے نقوش ان کی شاعری میں واضح طور پر محسوس کیے جا سکتے ہیں۔ آدمی، طلسم، انتظار، دھوکا، جستجو، شراب، شام، رات، غم، تلاش، زہر، صحبت، ہمدم، زنداں، صیاد، بدن، حیرت، سفر، مشقت جیسے موضوعات کی گہرائی سے ان کی شاعری لبریز ہے۔ انور شعور دھیمے لہجے کے مالک ہیں، ان کی شاعری میں مدہوشی کی کیفیت اپنی سرمستی سے مہک رہی ہوتی ہے۔ غزل کے رومان پرور شاعر ہونے کے باوجود ان کی ایک جداگانہ شناخت قطعہ نگاری بھی ہے۔ زندگی کے روزمرہ کے موضوعات کو ایک قطعہ میں سمو دینے کا ہنر انھیں خوب خوب آتا ہے۔ یہ سماج اور شعر کے درمیان ایک مستند مقام پر فائز ہیں، یہ مرتبہ ہر ایک شاعر کے حصے میں نہیں آتا، لیکن انور شعور نے اپنی لگن اور سچائی سے اس کٹھن منزل کو حاصل کیا ہے۔ ان کے چھوٹی بحروں کے اشعار بہت مقبول ہیں، یہ اپنی ذات کی طرح شاعری میں بھی کھلی کتاب کی مانند ہیں۔
تصانیف
- اندوختہ
- مشق سخن
- می رقصم
- دل کا کیا رنگ کروں
- کلیاتِ انور شعور