Skip to content
ابن صفی

ابن صفی

(1928—1980) کراچی ، پاکستان
معروف جاسوسی ناول نگار اور شاعر

ابن صفی
معلوماتِ شخصیت
پیدائش26 جولائی 1928ء، الہ آباد
وفات26 جولائی 1980ء (عمر 52 سال)، کراچی
شہریتپاکستان، برطانوی ہند
عملی زندگی
مادرِ علمیڈاکٹر بھیم راؤ امبیڈکر یونیورسٹی، آگرہ
پیشہشاعر، ناول نگار، مصنف

حالات زندگی

ابن صفی 26 جولائی 1928ء کو الٰہ آباد، اتر پردیش کے ایک گاؤں نارا میں صفی اللہ اور نذیرا (نضیراء) بی بی کے گھر پیدا ہوئے۔ اردو زبان کے شاعر نوح ناروی رشتے میں ابن صفی کے ماموں لگتے تھے۔ ابن صفی کا اصل نام اسرار احمد تھا۔ اگست 1952ء میں ابن صفی اپنی والدہ اور بہن کے ہمراہ پاکستان آ گئے جہاں انھوں نے کراچی کے علاقے لالو کھیت کے سی ون میں 1953ء سے 1958ء تک رہائش اختیار کی۔ ان کے والد 1947ء میں کراچی آچکے تھے۔


تعلیم

انھوں نے ابتدائی تعلیم نارا کے پرائمری اسکول میں حاصل کی۔ میٹرک ڈی اے وی اسکول الہ آباد سے کیا جبکہ انٹرمیڈیٹ کی تعلیم الہ آباد کے ایونگ کرسچن کالج سے مکمل کی۔ 1947ء میں الہ آباد یونیورسٹی میں بی اے میں داخلہ لیا۔ اسی اثنا میں برصغیر میں تقسیم کے ہنگامے شروع ہو گئے۔ ہنگامے فرو ہوئے تو تعلیم کا ایک سال ضائع ہو چکا تھا لہذا بی اے کی ڈگری جامعہ آگرہ سے یہ شرط پوری کرنے پر ملی کہ امیدوار کا عرصہ دو برس کا تدریسی تجربہ ہو۔


ملازمت

سنہ 1949ء سے 1952ء کے عرصے میں ابن صفی پہلے اسلامیہ اسکول اور بعد میں یادگار حسینی اسکول میں استاد کی حیثیت سے خدمات سر انجام دیتے رہے تھے۔ مارچ 1952ء میں ابن صفی نے جاسوسی دنیا کے تحت ناول دلیر مجرم شائع کیا تھا جس کے مرکزی کردار انسپکٹر فریدی اور سارجنٹ حمید تھے۔ اگست 1955ء میں ابن صفی نے خوفناک عمارت کے عنوان سے عمران سیریز کا پہلا ناول لکھا اور علی عمران کے کردار کو فریدی اور حمید کی طرح راتوں رات مقبولیت حاصل ہوئی۔


ادبی خدمات

سنہ 1948ء میں عباس حسینی نے ماہنامہ نکہت کا آغاز کیا۔ شعبہ نثر کے نگران ابن سعید (پروفیسر مجاور حسین رضوی) تھے جبکہ ابن صفی شعبہ شاعری کے نگران مقرر ہوئے۔ رفتہ رفتہ وہ مختلف قلمی ناموں سے طنز و مزاح اور مختصر کہانیاں لکھنے لگے۔ ان قلمی ناموں میں طغرل فرغان اور سنکی سولجر جیسے اچھوتے نام شامل تھے۔ سنہ 1948ء میں نکہت میں ان کی پہلی کہانی فرار شائع ہوئی۔

1951ء کے اواخر میں بے تکلف دوستوں کی محفل میں کسی نے کہا تھا کہ اردو میں صرف فحش نگاری ہی مقبولیت حاصل کرسکتی ہے۔ ابن صفی نے اس بات سے اختلاف کیا اور کہا کہ کسی بھی لکھنے والے نے فحش نگاری کے اس سیلاب کو اپنی تحریر کے ذریعے روکنے کی کوشش ہی نہیں کی ہے۔ اس پر دوستوں کا موقف تھا کہ جب تک بازار میں اس کا متبادل دستیاب نہیں ہوگا، لوگ یہی کچھ پڑھتے رہیں گے۔ یہی وہ تاریخ ساز لمحہ تھا جب ابن صفی نے ایسا ادب تخلیق کرنے کی ٹھانی جو بہت جلد لاکھوں پڑھنے والوں کی توجہ کا مرکز بن گیا۔ عباس حسینی کے مشورے سے اس کا نام جاسوسی دنیا قرار پایا اور ابن صفی کے قلمی نام سے انسپکٹر فریدی اور سرجنٹ حمید کے کرداروں پر مشتمل سلسلے کا آغاز ہوا جس کا پہلا ناول دلیر مجرم مارچ 1952ء میں شائع ہوا۔ اسرار پبلیکیشنز کا قیام ترمیم ناول بھیانک آدمی کو ماہانہ جاسوسی دنیا نے نومبر 1955ء میں کراچی کے ساتھ ساتھ الٰہ آباد سے بیک وقت شائع کیا تھا۔ اکتوبر 1957ء میں ابن صفی نے اسرار پبلیکیشنز کے نام سے ایک ادارہ قائم کیا جس کے تحت جاسوسی دنیا کا پہلا ناول ٹھنڈی آگ شائع ہوا۔ 1958ء میں ابن صفی، لالو کھیت سے کراچی کے علاقے ناظم آباد منتقل ہو گئے۔ جنوری 1959ء میں ابن صفی اسرار پبلیکیشنز کو فردوس کالونی منتقل کرچکے تھے اور یوں انھیں اپنی تخلیقات کو پروان چڑھانے کے لیے ایک آرام دہ ماحول میسر آ گیا۔ ناظم آباد کی رہائش گاہ میں وہ 1980ء میں اپنے انتقال تک مقیم رہے۔ ابن صفی کے بقول، ان کے صرف آٹھ ناولوں کے مرکزی خیال کسی اور سے مستعار لیے ہیں باقی کے 245 ناول مکمل طور پر ان کے اپنے ہیں


تصانیف

ابن صفی نے کئی سو کتابیں تصنیف کیں ۔ اگر ان کے نام یہاں پر درج کیے جائیں تو تعارف کافی لمبا ہو سکتا ہے ۔


وفات

24 جولائی 1980ء کو آپ کی طبیعت معمول سے زیادہ خراب ہو گئی۔ اس بیماری کو تقریباً دس ماہ سے زائد کا عرصہ ہو چکا تھا۔ دو دن بعد، 26 جولائی، 1980ء کو (یعنی اپنی سالگرہ کے ہی دن) وہ اس جہان سے رخصت ہوئے۔


اردو کتابیں 2020ء۔ جملہ حقوق محفوظ ہیں