ابصار عبد العلی
1940-2018 | لاہور ، پاکستان
شاعر، صحافی ، ڈرامہ نویس
| ابصار عبد العلی | |
| معلومات شخصیت | |
| پیدائش | 11 ستمبر 1940ء لکھنؤ ، برطانوی ہند |
| وفات | 20 دسمبر 2018ء (78 سال) لاہور ، پاکستان |
| وجہ وفات | دورۂ قلب |
| طرز وفات | طبعی موت |
| شہریت | برطانوی ہند پاکستان |
| عملی زندگی | |
| پیشہ | صحافی ، براڈ کاسٹر |
| پیشہ ورانہ زبان | اردو |
پیدائش و شخصیت
ابصار عبد العلی 11 ستمبر1940 ء کو لکھنؤ، برطانوی ہندوستان میں پیدا ہوئے۔ ابصار عبد العلی پاکستان سے تعلق رکھنے ولے براڈ کاسٹر، شاعر، صحافی، ڈراما نویس اور حمید نظامی پریس انسٹی ٹیوٹ آف پاکستان کے ڈائریکٹر تھے۔
تصانیف
- بنگلہ دیش کی کہانیاں
- سفید ہرنی
- شہ رگ
- سارا جہاں ہمارا
- بتاشے
- کیسے کیسے لوگ
- سردار گاپڑ
- ٹھگ نے ٹھگا ٹھگ کو
وفات
ابصار عبد العلی لاہور میں مقیم تھے۔ 20 دسمبر 2018ء کو دورۂ قلب کے باعث وفات کر گئے۔
نمونہ کلام
غزل
| جو نہیں لگتی تھی کل تک اب وہی اچھی لگی |
| دیکھ کر اس کو جو دیکھا زندگی اچھی لگی |
| تھک کے سورج شام کی بانہوں میں جا کر سو گیا |
| رات بھر یادوں کی بستی جاگتی اچھی لگی |
| منتظر تھا وہ نہ ہم ہوں تو ہمارا نام لے |
| اس کی محفل میں ہمیں اپنی کمی اچھی لگی |
| وقت رخصت بھیگتی پلکوں کا منظر یاد ہے |
| پھول سی آنکھوں میں شبنم کی نمی اچھی لگی |
| دائرے میں اپنے ہم دونوں سفر کرتے رہے |
| برف سی دونوں جزیروں پر جمی اچھی لگی |
| اک قدم کے فاصلے پر دونوں آ کر رک گئے |
| بس یہی منزل سفر کی آخری اچھی لگی |
ابصار عبد العلی کی کتابیں
صفحہ 1