ہاجرہ مسرور
1930-2012 | کراچی ، پاکستان
پاکستان کی ممتاز فیمنسٹ افسانہ نگار
ہاجرہ مسرور (ولادت: 17 جنوری 1930ء – وفات: 15 ستمبر 2012ء) پاکستانی مصنفہ اور حقوق نسواں کی علمبردار تھیں۔ انھیں کئی اعزازات سے نوازا گیا جس میں تمغا حسن کارکردگی 1995ء بطور بہترین مصنف اور عالمی فروغ اردو ادب ایوارڈ بھی شامل ہیں۔
| ہاجرہ مسرور | |
| معلومات شخصیت | |
| پیدائش | 17 جنوری 1930ء لکھنؤ, برطانوی ہند |
| وفات | 15 ستمبر 2012ء (82 سال) کراچی, پاکستان |
| قومیت | پاکستانی |
| نسل | اہل اردو |
| عملی زندگی | |
| پیشہ | مصنف |
| پیشہ ورانہ زبان | اردو |
| وجہ شہرت | حقوق نسواں، تصنیف |
| اعزازات | |
| تمغائے حسن کارکردگی نگار اعزاز | |
حالات زندگی
ہاجرہ 17 جنوری 1930ء کو متحدہ ہندوستان کے لکھنؤ میں ڈاکٹر طہور احمد خان کے ہاں پیدا ہوئیں۔ ان کے والد ڈاکٹر سید طہور علی خان برطانوی فوج کے میڈیکل ڈاکٹر تھے۔ اور اچانک دل کا دورہ پڑنے کی وجہ سے انتقال کر گئے۔ اس کی پانچ بہنیں تھیں جن میں ایک اور معروف مصنفہ خدیجہ مستور تھیں اور ایک چھوٹے بھائی خالد احمد، جو ایک شاعر ، ڈراما نگار اور ایک کالم نگار تھے۔ ان کے خاندان کی ذمہ داری بنیادی طور پر ان کی والدہ نے اٹھایا تھا۔ ہاجرہ مسرور نے لکھنے کا آغاز بچپن ہی سے کیا تھا۔
ء میں پاکستان کی آزادی کے بعد، وہ اور ان کی بہنیں ہجرت کرکے پاکستان چلی گئیں۔ ان کا خاندان لاہور میں رہتا تھا۔ اردو کے ایک مصنف نے اپنی کتاب میں لکھا ہے کہ کوئی نہیں جانتا تھا کہ ہاجرہ اردو کے مشہور شاعر ساحر لدھیانوی کے ساتھ منسلک ہے لیکن ایک بار ادبی مجلس میں لدھیانوی نے ایک لفظ غلط اعلان کیا تو ہاجرہ نے ان پر تنقید کی، جس کی وجہ سے ساحر ناراض ہو گئے اور رشتہ ختم ہو گیا۔ بعد میں، ہاجرہ مسرور نے احمد علی خان سے شادی کی جو 28 سال تک ڈیلی ڈان کے ایڈیٹر تھے۔ 2007ء میں احمد علی خان کی وفات ہو گئی۔ ان کی دو بیٹیاں تھیں۔ ہاجرہ مسرور اردو ادب کی تاریخ کی ایک مشہور مصنفہ خدیجہ مستور کی چھوٹی بہن تھیں۔
اعزازات
- 1995ء میں صدر پاکستان کی جانب سے تمغا حسن کارکردگی
- نگار ایوارڈ
- عالمی فروغ اردو ادب ایوارڈ
تصانیف
- چاند کی دوسری طرف
- تیسری منزل
- اندھیرے اُجالے
- چوری چُھپے
- ہائے اللہ
- چرکے
- وہ لوگ
وفات
ہاجرہ مسرور 15 ستمبر 2012ء کو پاکستان کے شہر کراچی میں انتقال کر گئیں۔