کیف بھوپالی
1917-1991 | بھوپال، انڈیا
شاعر اور نغمہ نگار
کیف بھوپالی ایک اردو کے معروف شاعر اور نغمہ نگار تھے۔ وہ مشاعروں کے حلقوں میں ایک خاصا مقام رکھتے تھے۔ ان کا نغمہ ’’چلو دلدار چلو چاند کے پار چلو‘‘ جسے محمد رفیع نے 1972ء میں فلم پاکیزہ کے لیے گایا تھا بہت مقبول ہوا۔
| کیف بھوپالی | |
| معلومات شخصیت | |
| پیدائش | 1920ء بھوپال، ریاست بھوپال، برٹش راج، موجودہ مدھیہ پردیش، بھارت |
| وفات | 24 جولائی 1991ء (عمر: 71 سال) بھوپال، مدھیہ پردیش، بھارت |
| پیشہ | شاعر، مکالمہ نگار |
| قومیت | ہندوستانی |
| اصناف | غزل، اردو شاعری |
| موضوع | محبت، فلسفہ |
فلمی سفر
کیف بھوپالی نے کئی بالی ووڈ فلموں جیسے پاکیزہ وغیرہ کے لیے تیر نظر اور چلو دلدار چلو جیسے معروف نغمے لکھے۔ انھوں نے مشہور غزلیں جیسے "تیرا چہرہ کتنا سہانہ لگتا ہے”، جھوم کے جب رندوں نے پلادی ،جیسے نغمات لکھے جنہیں پدم بھوشن جگجیت سنگھ نے گایا تھا ۔ ان کا ایک مشہور شعر کون آئے گا یہاں، کوئی نا آیا ہوگا، جسے جگجیت سنگھ ہی نے گایا تھا، کافی مشہور ہوا۔ 1982ء کی کمال امروہی کی فلم رضیہ سلطانہ کا نغمہ ‘اے خدا شکر تیرا، بھی کافی مشہور ہوا تھا۔ کیف بھوپالی کی دختر پروین کیف بھی ایک مشہور شاعرہ ہیں جو مشاعروں میں شرکت کرتی رہی ہیں۔
نمونہ کلام :
غزل
| ہائے لوگوں کی کرم فرمائیاں |
| تہمتیں، بدنامیاں، رُسوائیاں |
| زندگی شاید اِسی کا نام ہے |
| دُوریاں، مجبُوریاں، تنہائیاں |
| کیا زمانے میں یونہی کٹتی ہے رات! |
| کروٹیں، بے تابیاں، انگڑائیاں |
| کیا یہی ہوتی ہے شامِ انتظار |
| آہٹیں، گھبراہٹیں، پرچھائیاں |
| ایک رندِ مَست کی ٹھوکرمیں ہیں |
| شاہیاں، سُلطانیاں، دارائیاں |
| رہ گئیں اِک طفلِ مکتب کے حضُور |
| حِکمتیں، آگاہیاں، دانائیاں |
| ایک پیکرمیں سِمٹ کررہ گئیں |
| خُوبیاں، زیبائیاں، رعنائیاں |
| دیدہ و دانِستہ اُس کے سامنے |
| لغزشیں، ناکامیاں، پسپائیاں |
| اُن سے مِل کے اوربھی کچھ بڑھ گئیں! |
| اُلجھنیں، فِکریں، قیاس آرائیاں |
| چند لفظوں کے سِوا کچھ بھی نہیں |
| نیکیاں، قربانیاں، سچّائیاں |
| کیف، پیدا کر سمندر کی طرح |
| وُسعتیں، خاموشِیاں، گہرائیاں |
غزل
| کون آئے گا یہاں کوئی نہ آیا ہوگا |
| میرا دروازہ ہواؤں نے ہلایا ہوگا |
| دل ناداں نہ دھڑک اے دل ناداں نہ دھڑک |
| کوئی خط لے کے پڑوسی کے گھر آیا ہوگا |
| اس گلستاں کی یہی ریت ہے اے شاخ گل |
| تو نے جس پھول کو پالا وہ پرایا ہوگا |
| دل کی قسمت ہی میں لکھا تھا اندھیرا شاید |
| ورنہ مسجد کا دیا کس نے بجھایا ہوگا |
| گل سے لپٹی ہوئی تتلی کو گرا کر دیکھو |
| آندھیو تم نے درختوں کو گرایا ہوگا |
| کھیلنے کے لیے بچے نکل آئے ہوں گے |
| چاند اب اس کی گلی میں اتر آیا ہوگا |
| کیفؔ پردیس میں مت یاد کرو اپنا مکاں |
| اب کے بارش نے اسے توڑ گرایا ہوگا |