چودھری افضل حق
1891-1942 | لاہور ، پاکستان
سیاسی رہنما اور ادیب
| چودھری افضل حق | |
| معلومات شخصیت | |
| پیدائش | سنہ 1891ء ہشیار پور |
| وفات | 8 جنوری 1942ء (50–51 سال) لاہور |
| شہریت | برطانوی ہند کے صوبے اور علاقے |
| عملی زندگی | |
| پیشہ | سیاست دان |
| تحریک | مجلس احرار الإسلام |
حالات زندگی
چودھری افضل حق (1891 – 1941) سیاسی رہنما۔ ادیب تھے۔ تحصیل گڑھ شنکر کے ایک راجپوت گھرانے میں پیداہوئے۔ میٹرک کا امتحان امرتسر سے پاس کیا پھر اسلامیہ کالج لاہور میں داخلہ لے لیا لیکن 1920ء میں تعلیم مکمل کرنے سے بیشتر ہی پولیس میں سب انسپکٹر بھرتی ہو گئے۔ یہ وہ زمانہ تھا جب برصغیر میں تحریک خلافت اپنے شباب پر تھی۔ سید عطا اللہ شاہ بخاری کے ایک جلسے کی رپورٹنگ کرتے وقت شاہ جی کی تقریر کا اتنا اثر ہوا کہ نوکری چھوڑ کر تحریک خلافت میں شریک ہو گئے اور شہر شہر اپنی آتش بیانی سے تحریک کو ایک نئی زندگی بخشی۔ اس پر انھیں اایک سال کی سزا ہوئی۔ رہائی کے بعد پنجاب صوبائی اسمبلی کے رکن منتخب ہوئے۔ اسمبلی میں انھوں نے بڑی جرات مندانہ تقریریں کیں۔
تحریک خلافت کی ناکامی اور نہرو رپورٹ کے بعد بہت سے مسلمان لیڈر آل انڈیا کانگریس سے الگ ہو گئے۔ چودھری افضل حق اور سید عطا اللہ شاہ بخاری نے 1929ء میں مجلس احرار کی بنیاد رکھی۔ چودھری افضل حق احرار کا دماغ سمجھے جاتے۔ کشمیر تحریک میں تحریک کے روح رواں تھے۔ بہت اچھے ادیب تھ۔ے ان کی تصانیف زندگی اور میرا افسانہ اردو ادب میں بلند مقام رکھتی ہے۔
تصانیف
- دنیا میں دوزخ
- زندگی
- محبو ِب خدا
- آزادئ ہند
- میرا افسانہ
- تاریخ احرار
- دین اسلام
- جواہرات
- خطوط افضل حق
- شعور
- دیہاتی رومان
- معشوقہ پنجاب
- اسلام میں بادشاہ اور امراء کا وجود نہیں
وفات
چوہدری افضل حق نے ۸جنوری ۱۹۴۲ء کو لاہور میں وفات پائی۔