Skip to content
پرتو روہیلہ

پرتو روہیلہ

1923-2016 | خیبرپختونخوا ، پاکستان
نامور ادیب ، محقق ، شاعر

اردو کے ممتاز محقق، دانشور اور شاعر پرتو روہیلہ کا اصل نام مختار علی خان تھا۔نسبی تعلق حافظ رحمت خان والئی روھیل کھنڈ سے ہونے کے سبب اپنے نام کے ساتھ ہمیشہ روہیلہ بھی لکھتے تھے۔

پرتو روہیلہ
معلومات شخصیت
اصل ناممختار علی خان
قلمی نامپرتو روہیلہ
پیدائش23 ستمبر 1923 | روھیل کھنڈ بریلی ، یوپی بھارت
وفات 29 ستمبر 2016ء | اسلام آباد ، پاکستان
فنادیب
اصناف ادبتحقیق، تنقید ، شاعری
شہریتپاکستان

پیدائش

23 ستمبر 1933ء روھیل کھنڈ (یوپی بھارت) کے مشہورشہر بریلی میں ایک پٹھان زمیندار گھرانے میں پیدا ہوئے، مستقر بنوں صوبہ پختونخوا پاکستان تھا،


حالات زندگی

پرتو روہیلہ کے بزرگوں نے تحریک پاکستان میں بڑھ چڑھ کر حصہ لیا۔1950 میں خاندان کے ساتھ پاکستان آگئے۔ مستقر بنوں صوبہ پختونخوا تھا۔ اسلامیہ کالج پشاور، لا کالج پشاور اور پشاور یونیورسٹی سے بی اے آنرزایم اے ایل ایل بی کیا۔ مقابلے کے امتحان میں منتخب ہو کر 1957میں پاکستان ٹیکسیشن سروس میں شامل ہوئے جہاں سے 1993 میں بحیثیت ممبر سنٹرل بورڈ آف ریونیو ریٹائر ہوئے۔ چند سال وزیر اعظم معائنہ کمیشن میں بھی رہے۔


تصانیف

ملازمت سے سبک دوشی کے بعد انھوں نے غالب کے فارسی مکتوبات کی طرف توجہ دی اور غالب کے سارے فارسی مکتوبات کو انتہائی دل کش اردو میں ترجمہ کر نے کا اعزاز حاصل کیا۔ اس کے علاوہ غالب کے مشکل اشعار کی ایک شرح اور غالب پر چند مقالے بھی ان کی تصنیفات میں شامل ہیں۔

  • غالب اور غمگین کے فارسی مکتوبات
  • نامہ ہائے فارسیِ غالب
  • کلیات ِ عطا مرتب
  • اِک دیا دریچے میں (شاعری)
  • آواز (شاعری)
  • دام ِ خیال (کلیات)
  • شکست رنگ (شاعری)
  • سفر دائروں کا
  • سفر گزشت امریکا کا سفرنامہ
  • رین اجیارا (دوہے)
  • نوائے شب (شاعری)

اعزازات

  • 1406ھ میں اکادمی ادبیات پاکستان نے نوائے شب پر ڈاکٹر محمد اقبال ایوارڈ عطا ہوا
  • 23 مارچ 1994 کو حکومت پاکستان نے صدارتی تمغا برائے حسن کارکردگی عطا کیا
  • جبکہ 2008 میں انھیں ستارہ امتیاز بھی عطا کیا گیا تھا۔

وفات

پرتو روہیلہ کا 29 ستمبر 2016ء کو طویل علالت کے بعد اسلام آباد پاکستان میں انتقال ہوا۔


نمونہ کلام

دوہے

آنکھ سے اوجھل ہو اور ٹوٹے پربت جیسی پریت
منہ دیکھے کی یاری پرتوؔ شیشہ کی سی پریت

تیرے ملن کا سکھ نہ پایا پیت ہوئی جنجال
ساجن میرے من میں دھڑکے برہا کا گھڑیال

ساجن تم تو آپ ہی بھولے اپنے پریت کے بول
اب میں کس کے دوارے جاؤں لے چاہت کشکول

غزل

میں جو صحرا میں کسی پیڑ کا سایا ہوتا
دل زدہ کوئی گھڑی بھر کو تو ٹھہرا ہوتا
اب تو وہ شاخ بھی شاید ہی گلستاں میں ملے
کاش اس پھول کو اس وقت ہی توڑا ہوتا
وقت فرصت نہیں دے گا ہمیں مڑنے کی کبھی
آگے بڑھتے ہوئے ہم نے جو یہ سوچا ہوتا
ہنستے ہنستے جو ہمیں چھوڑ گیا ہے حیراں
اب رلانے کے لئے یاد نہ آیا ہوتا
وقت رخصت بھی نرالی ہی رہی دھج تیری
جاتے جاتے ذرا مڑ کے بھی تو دیکھا ہوتا
کس سے پوچھیں کہ وہاں کیسی گزر ہوتی ہے
دوست اپنا کبھی احوال ہی لکھا ہوتا
ایسا لگتا ہے کہ بس خواب سے جاگا ہوں ابھی
سوچتا ہوں کہ جو یہ خواب نہ ٹوٹا ہوتا
زندگی پھر بھی تھی دشوار بہت ہی دشوار
ہر قدم ساتھ اگر ایک مسیحا ہوتا
ایک محفل ہے کہ دن رات بپا رہتی ہے
چند لمحوں کے لئے کاش میں تنہا ہوتا

اردو کتابیں 2020ء۔ جملہ حقوق محفوظ ہیں

صرف کتاب ڈان لوڈ ہو سکتی ہے