نیر مسعود
1936-2017 | لکھنؤ، انڈیا
اردو ادیب اور نقاد
نیر مسعود (1936ء تا 2017ء) ایک اردو اسکالر، قلمکار اور اردو زبان کے معروف افسانہ نگار و مترجم تھے۔ وہ ان ادیبوں میں سے تھے جنھوں نے ادبی دنیا میں اپنی منفرد شناخت قائم کی۔ ان کے افسانوں کا مجموعہ "طاؤس چمن کی مینا” گزشہ ایک دہائی میں سب سے زیادہ پڑھا جانے والا افسانہ تھا۔ نیر مسعود افسانہ، تحقیق، تنقید اور ترجمہ کے موضوعات پر تیس سے زائد کتابوں کے مصنف تھے۔ لکھنؤ یونیورسٹی میں شعبہ فارسی سے تا عمر وابستہ رہے۔
| نیر مسعود | |
| معلومات شخصیت | |
| پیدائش | اکتوبر1936ء لکھنؤ |
| وفات | 24 جولائی 2017ء (80–81 سال) لکھنؤ |
| شہریت | بھارت (26 جنوری 1950–) برطانوی ہند (–14 اگست 1947) ڈومنین بھارت (15 اگست 1947–26 جنوری 1950) |
| رشتے دار | اظہر مسعود (بھائی) |
| عملی زندگی | |
| مادر علمی | الہ آباد یونیورسٹی لکھنؤ یونیورسٹی |
| پیشہ | نقاد ، مترجم ، استاذ جامعہ ، مصنف |
| پیشہ ورانہ زبان | اردو |
| ملازمت | لکھنؤ یونیورسٹی |
| کارہائے نمایاں | طاؤس چمن کی مینا |
| اعزازات | |
| سرسوتی اعزاز (2007) ساہتیہ اکادمی اعزاز اردو (برائے:Taoos Chaman Ki Maina ) (2001) | |
ابتدائی زندگی اور تعلیم
نیر مسعود 16 نومبر 1936ء کو لکھنؤ میں مشہور اردو ناقد و ادیب سید مسعود حسن رضوی ادیب کے گھر پیدا ہوئے۔ 1957ء میں لکھنؤ یونیورسٹی سے فارسی میں ایم۔ اے۔ اور 1965ء میں الہ آباد یونیورسٹی سے اردو میں پی ایچ ڈی کی ڈگر ی حاصل کرنے کے بعد 1965ء میں ہی اسلامیہ کالج بریلی میں اردو و فارسی کے استاذ مقرر ہوئے۔ اس کے بعد شعبہ فارسی لکھنؤ یونیورسٹی میں استاذ مقرر ہوئے اور بتدریج ترقی کرتے ہوئے 1996ء میں پروفیسر کے عہدے سے سبکدوش ہوئے۔
ادبی زندگی
ان کی ادبی زندگی کا آغاز ان کے لڑکپن میں ہی ہو گیا تھا، جب 11-12 سال کی عمر میں انھوں نے ایک ڈراما لکھا اور اسے انھوں نے علی عباس حسینی، مولوی اختر علی تلہری اور مزا محمد اصغری وغیرہم کی موجودگی میں بے جھجھک پڑھا اور دادِ تحسین حاصل کی۔ لیکن تصنیف و تالیف کا سلسلہ باضابطہ 1965ء میں شروع ہوا۔ ان کی کہانیاں مختلف ادبی رسائل بالخصوص "شب خون” میں شائع ہوئیں اور کہانیوں کا پہلا مجموعہ "سیمیا” کے نام سے 1984ء میں شائع ہوا۔ انھوں نے بچوں کے لیے بھی دو کتابیں تحریر کیں۔ قصہ سوتے جاگتے ابو الحسن کا (الف لیلی) جو 1985ء میں اتر پردیش اردو اکادمی سے شائع ہوا۔ انھوں نے بچوں کے لیے ایک ڈرامائی مشاعرہ بھی لکھا۔ ان کے تین سو سے زائد علمی و تحقیقی مقالات ہند و پاک کے ادبی رسائل میں شائع ہوئے۔ محمد عمر میمن نے 1998ء میں نیر مسعود کی دس کہانیوں کا ترجمہ انگریزی میں کیا تھا، نیز انھوں نے "طاؤس چمن کی مینا” کا بھی انگریزی میں ترجمہ کیا۔ ان کی سات کہانیاں "کافور” کے نام سے پیرس سے بھی شائع ہوئی تھیں۔
تصانیف
نیر مسعود نے کئی تحقیقی کتابیں اور تراجم کیے (خاص طور پر کافکا کے ) لیکن اپنے افسانوں سے زیادہ مشہور ہوئے، ان کے افسانوں کے مجموعے مندرجہ ذیل ہیں:
- طاؤس چمن کی مینا (1988ء)
- عطر ِ کافور
- سیمیا
- گنجفہ
تحقیقی کتابوں میں
- دولہا صاحب عروج، مونو گراف
- رجب علی بیگ سرور حیات اور کارنامے (1967ء)
- تعبیر غالب
- مرثیہ خوانی کا فن (1989ء)
- شفاء الدولہ کی سرگزشت
- انیس (2002ء)
- ادبستان (2006ء)
- منتخب مضامین (2009ء)
- یگانہ احوال و آثار
- لکھنؤ کا عروج و زوال
دیگر
- بچوں سے باتیں (مرتبہ)
- بستانِ حکمت (ترجمہ)
- سوتا جاگتا
- کافکا کے افسانے (ترجمہ)
اعزازات
ڈاکٹر نیر مسعود کو ان کی ادبی خدمات کے صلہ میں 2001ء میں ساہتیہ اکیڈمی نے اردو ادب دیا اور 2007ء میں سرسوتی سمان ملا۔ جب کہ سنہ 1979ء انھیں پدم شری اعزاز برائے تعلیم و ادب سے نوازا گیا۔
وفات
24 جولائی 2017ء کو طویل علالت اور کئی سال تک فالج کے مرض میں مبتلا رہنے کے بعد وفات پائی اور لکھنؤ کے حیدر گنج میں واقع کربلا منشی فضل حسین میں تدفین عمل میں آئی۔