نگار فاروقی
1924-2004 | کراچی، پاکستان
پاکستانی شاعر
| نگار فاروقی | |
| معلومات شخصیت | |
| اصل نام | ضامن حسین |
| قلمی نام | نگار فاروقی |
| والد کا نام | حکیم محبوب حسین |
| پیدائش | 10 Oct 1924 | آگرہ, اتر پردیش |
| وفات | 2004 | کراچی |
| فن | شاعر |
| شہریت | پاکستان |
تصانیف
- اللہ الصمد
- ازل تا ابد
- بیت الغزل
- اک آگ غم تنہائی کی
- حرف حرف کائنات
نمونہ کلام
نعت شریف
| نہ کیوں لفظوں سے پھوٹے روشنی، مضمون سے خوشبو کر لیں |
| جو شامل نعت کے اشعار میں دل کا لہو کر لیں |
| بٹے ہیں اس قدر فرقوں میں پہچانے نہیں جاتے |
| کہاں ہمت کسی سے دین پر ہم گفتگو کر لیں |
| کیا ہے دامن اسلام چاک اپنے ہی لوگوں نے |
| ہمیں مہلت نہیں اتنی کہ دامن کو رفو کر لیں |
| قیامت میں رسول اللہ کو کیا منہ دکھائیں گے |
| سر بزم جہاں تو جتنا چاہیں ہاؤ ہو کر لیں |
| مگر سچائی جو اسلام کی ہے مٹ نہیں سکتی |
| مخالف بولہب سی دشمنی بھی ہو بہو کر لیں |
| نگار آقا سے اپنے کیا کہیں گے یہ تو ہم سوچیں |
| مدینے میں پہنچنے ہی سے پہلے جستجو کر لیں |
غزل
| میرا جنوں مرے لیے رسوائی بن گیا |
| پھر یہ ہوا کہ شہر تماشائی بن گیا |
| اترا جو میری روح میں خوشبو تھا ، رنگ تھا |
| سمٹا تو میری آنکھ کی بینائی بن گیا |
| دیکھا تھا اس کو میں نے شب ماہتاب میں |
| یہ اتفاق وجہِ شناسائی بن گیا |
| میں بھی عذاب ترک تعلق میں گھر گیا |
| وہ بھی سمندروں کی سی گہرائی بن گیا |
| یہ کھیل دھوپ چھاؤں کے کتنے عجیب ہیں |
| جو اجنبی تھا آج مرا بھائی بن گیا |
| کہتے ہیں جس کو شاعری آساں نہ تھی نگار |
| اب یہ ہنر بھی قافیہ پیمائی بن گیا |