مصطفی زیدی
1929-1970 | کراچی ، پاکستان
معروف اردو شاعر
تیغ الہ آبادی کے نام سے بھی مشہور
مصطفٰی زیدی پاکستان سے تعلق رکھنے والا شاعر اور بیوروکریٹ تھے۔ ان کا نام اردو کے جدید شعرا میں اہم نام گردانا جاتا ہے۔ ان کی نظمیں کسی فکری دماغ کے داخلی احوال اور خارجی عوامل کا حسین امتزاج ہے۔یہ کبھی تیغ الہ آبادی کے نام سے بھی لکھتے رہے۔
| مصطفی زیدی | |
| معلومات شخصیت | |
| پیدائش | 16 اکتوبر 1930ء الہ آباد |
| وفات | 12 اکتوبر 1970ء (40 سال) کراچی |
| شہریت | برطانوی ہند پاکستان |
| عملی زندگی | |
| مادر علمی | گورنمنٹ کالج یونیورسٹی لاہور |
| پیشہ | شاعر |
| پیشہ ورانہ زبان | اردو |
| ملازمت | جامعۂ پشاور |
| اعزازات | |
| تمغائے قائد اعظم | |
حالات زندگی
نام سید مصطفی حسین زیدی اور تخلص زیدی تھا۔ شروع میں تیغ الہ آبادی تخلص کرتے تھے۔۱۰؍اکتوبر۱۹۲۹ء کو الہ آباد میں پیدا ہوئے۔اوائل طالب علمی ہی سے شاعری کا شوق پید ا ہوگیا تھا۔انٹرمیڈیٹ اور بی اے کے امتحانات امتیاز کے ساتھ پاس کیے۔ ایم اے (انگریزی) کا امتحان ۱۹۵۲ء میں گورنمنٹ کالج، لاہور سے پاس کیا۔ دوران تعلیم ان کی غیر معمولی قابلیت کے اعتراف میں انھیں کئی گولڈ میڈل اور تمغے ملے۔۱۹۵۴ء میں سول سروس کے امتحان میں کامیاب ہوئے۔مختلف شہروں میں ڈپٹی کمشنر رہے۔
تصانیف
مصطفی زیدی کے مندرجہ ذیل شعری مجموعے شائع ہو چکے ہیں ۔
- گریباں
- موج میری صدف صدف
- کوہ ندا
- روشنی
- قبائے ساز
- شہر آذر
- کلیات مصطفی زیدی
اعزازات
حکومت پاکستان نے اعلی کارکردگی کے صلے میں انھیں’’تمغائے قائد اعظم ‘‘ عطا کیا۔
وفات
۱۲؍اکتوبر۱۹۷۰ء کو کراچی میں مصطفی زیدی کی اچانک موت کا سانحہ رونما ہوا۔
نمونہ کلام
غزل
| چلے تو کٹ ہی جائے گا سفر آہستہ آہستہ |
| ہم اس کے پاس جاتے ہیں مگر آہستہ آہستہ |
| ابھی تاروں سے کھیلو چاند کی کرنوں سے اٹھلاؤ |
| ملے گی اس کے چہرے کی سحر آہستہ آہستہ |
| دریچوں کو تو دیکھو چلمنوں کے راز تو سمجھو |
| اٹھیں گے پردہ ہائے بام و در آہستہ آہستہ |
| زمانے بھر کی کیفیت سمٹ آئے گی ساغر میں |
| پیو ان انکھڑیوں کے نام پر آہستہ آہستہ |
| یوں ہی اک روز اپنے دل کا قصہ بھی سنا دینا |
| خطاب آہستہ آہستہ نظر آہستہ آہستہ |
غزل
| کسی اور غم میں اتنی خلش نہاں نہیں ہے |
| غم دل مرے رفیقو غم رائگاں نہیں ہے |
| کوئی ہم نفس نہیں ہے کوئی رازداں نہیں ہے |
| فقط ایک دل تھا اب تک سو وہ مہرباں نہیں ہے |
| مری روح کی حقیقت مرے آنسوؤں سے پوچھو |
| مرا مجلسی تبسم مرا ترجماں نہیں ہے |
| کسی زلف کو صدا دو کسی آنکھ کو پکارو |
| بڑی دھوپ پڑ رہی ہے کوئی سائباں نہیں ہے |
| انہیں پتھروں پہ چل کر اگر آ سکو تو آؤ |
| مرے گھر کے راستے میں کوئی کہکشاں نہیں ہے |