محمد اسامہ سرسری
(1985) کراچی ، پاکستان
ماہر عروض، شاعر اور ادیب
ماہنامہ ذوق کے معاون مدیر
| محمد اسامہ سرسری | |
| معلومات شخصیت | |
| قلمی نام | محمد اسامہ سرسری |
| پیدائش | 1985ء | کراچی، پاکستان |
| پیشہ | تدریس |
| فن | مصنف، ادیب |
| شہریت | پاکستان |
حالات زندگی
محمد اسامہ سرسری اپنی ویب پر اپنا تعارف اور حالات زندگی کچھ یوں بیان کرتے ہیں۔
” میرا نام محمد اسامہ سَرسَری اور میرے والد محترم کا نام محمد رفیق ہے۔
میں پاکستان کے شہر کراچی کا رہائشی ہوں، 1985ء میں کراچی ہی میں پیدا ہوا تھا۔ گھر میں پچپن ہی سے اردو سیکھی اور بولی ہے۔ دس سال کی عمر میں الحمدللہ تکمیلِ حفظِ قرآنِ کریم کی سعادت حاصل ہوئی۔ تیرہ سال کی عمر میں مدرسہ عربیہ رائیونڈ کی کراچی میں موجود شاخ “مدرسہ امداد العلوم مسجد باب الاسلام” (جو کہ برنس روڈ پر واقع ہے) میں درسِ نظامی کا آغاز کیا تھا۔ متوسطہ کے تین سال میں اُردو، فارسی، خوشخطی اور ریاضی سیکھی اور پھر درجۂ اولیٰ سے درجۂ سابعہ تک کے تمام علوم و فنون یہیں سیکھے۔ بعد ازاں دورۂ حدیث شریف کے لیے رائیونڈ شہر میں واقع مشہور تبلیغی مرکز کے اندر ایک سال گزارا، پھر ایک سال تبلیغی جماعت کے ساتھ ملک بھر کی مختلف مساجد میں شب و روز دین کی خدمت کا موقع ملا۔
پھر کراچی آکر رشتۂِ ازدواج سے منسلک ہوا اور ساتھ ہی تخصص فی الفقہ الاسلامی کے لیے ایک سال جامعہ طیبہ گرومندر کراچی میں مفتی ثاقب الدین صاحب کی فقاہت سے فیض یابی کی سعادت حاصل کی۔ تدریس کا آغاز مدرسہ بیت العلم گلشن اقبال سے مفتی محمد حنیف عبد المجید صاحب کی سرپرستی میں ہوا، جہاں پانچ سال تدریس، تصنیف اور ماہ نامہ ذوق و شوق کی نائب مدیری کا فریضہ سرانجام دینے کے بعد آن لائن دنیا کا رخ کیا۔ تب سے الحمدللہ آن لائن سیکھنے و سکھانے کے متعدد سلسلوں سے وابستگی جاری ہے۔
آن لائن کام کے دوران اردو محفل فورم پر محترم اعجاز عبید صاحب، محترم محمد یعقوب آسی صاحب اور محترم مزمل شیخ بسمل صاحب سے اردو شعر و ادب کے رموز سیکھنے اور سیکھانے کی تربیت ملی، پھر فیس بک پر گروپ “شاعری سیکھیں اور سکھائیں” میں مبتدیوں کی خدمت کی، دو سال مشہور زمانہ سلسلہ “اوجِ ادب” میں خدامی کا شرف حاصل ہوا، اور بعد میں مکتبِ علومِ شریعت کی بنیاد رکھی جس کا ذیلی ادارہ شمس المکاتب کے نام سے ہے۔ “
تصانیف
محمد اسامہ سرسری نے مختلف موضوعات پر سو کے قریب کتابیں لکھیں۔