لیث قریشی
1922-2011 | کراچی ، پاکستان
پاکستانی اردو شاعر
لیث قریشی (پیدائش:4 مئی 1922ء – 29 اپریل 2011ء) پاکستان سے تعلق رکھنے والے اردو زبان کے غزل اور نعت کے نامور شاعر تھے۔ ان کے چار شعری مجموعے اور طوقِ حیات کے نام سے خودنوشت شائع ہو چکی ہے۔
| لیث قریشی | |
| معلومات شخصیت | |
| پیدائشی نام | (اردو میں: ابو اللیث قریشی) |
| پیدائش | 4 مئی 1922ء غازی آباد ضلع، بھارت ، برطانوی ہند |
| وفات | 29 اپریل 2011ء (89 سال) کراچی ، پاکستان |
| شہریت | برطانوی ہند پاکستان |
| عملی زندگی | |
| پیشہ | شاعر |
| پیشہ ورانہ زبان | اردو |
| ملازمت | ریزرو بینک آف انڈیا ، نیشنل بینک آف پاکستان |
حالات زندگی
لیث قریشی 4 مئی 1922ء کو موضع بھوجاپور، ضلع غازی آباد، اتر پردیش، برطانوی ہندوستان میں پیدا ہوئے۔ پیدائشی نام ابو اللیث قریشی تھا مگر لیث قریشی کے قلمی نام سے شہرت پائی۔ آبائی وطن اعظم گڑھ تھا۔ والد کا نام مولوی ابو الحسن تھا، جو جید عالم تھے۔لیث نے گاؤں کے دینی مدرسے اور پرائمری اسکول سے تعلیم حاصل کی۔ساتویں جماعت تک شبلی ہائی اسکول اعظم گڑھ میں زیر تعلیم رہے۔ اس کے بعد آسام کے ضلع ڈبرو گڑھ تلس کیا کے سنئی رام ڈونگر مل ہائی اسکول سے میٹرک پاس کیا۔پھر دس سال تک تعلیم جاری نہ رکھ سکے۔ میٹرک کی تعلیم مکمل کرنے کے دو سال تک کانپور کی دو مختلف کمپنیوں میں ملازمت کرنے کے بعد سی او ڈی میں ملازمت اختیار کی۔ 1945ء میں ریزرو بینک آف انڈیا کے کلکتہ دفتر میں مقابلے کا امتحان پاس کر کے کلرک بھرتی ہو گئے۔ اکتوبر 1949ء میں مشرقی پاکستان پہنچے اور ڈھاکہ میں سکونت اختیار کر لی۔ ڈھاکہ میں انھیں نیشنل بینک آف پاکستان میں ملازمت مل گئی۔ تعلیم کا سلسلہ دوبارہ شروع ہو گیا۔ڈھاکہ یونیورسٹی سے 1951ء میں آئی کام اور پھر 1953ء میں بی اے پاس کیا۔ فروری 1954ء میں ان کا تبادلہ ڈھاکہ سے کراچی ہو گیا۔نیشنل بنک آف پاکستان میں ترقی کی منازل طے کرتے ہوئے سینئر وائس پریذیڈنٹ کے عہدے تک پہنچے۔دس سال اس عہدے پر رہ کر 12 مارچ 1985ء کو ریٹائر ہوئے۔
ادبی خدمات
1943ء میں انھیں شعر و سخن کا ذوق پیدا ہو۔ 1946ء میں ان کا کلام مختلف اخبارات و رسائل میں چھپنے لگا۔لیث قرشی نے 1989ء کے بعد مستقل نعت گوئی کی طرف توجہ دی۔حج اور کئی بار زیارتِ حرمین شریفین سے مشرف ہوئے۔
تصانیف
- لمس گریزاں (شاعری)
- عکس لرزاں (شاعری)
- تاباں تاباں (شاعری)
- شعلۂ رقصاں (شاعری)
- طوق حیات (خودنوشت )
وفات
لیث قریشی 29 اپریل 2011ء میں کراچی، پاکستان میں انتقال کر گئے۔
نمونہ کلام
غزل
| یہ مسئلہ ہے اور کوئی مسئلہ نہیں |
| اپنا حریف میں ہوں کوئی دوسرا نہیں |
| کل مجھ پہ کھل گیا ترا حسن منافقت |
| اس سانحے کے بعد کوئی سانحہ نہیں |
| مفلس نہیں ہے ذہن تہی دست ہوں تو کیا |
| دست طلب دراز کہیں بھی کیا نہیں |
| ہر گام و ہر نفس رہے درپیش مرحلے |
| ذوق سفر گواہ کہ میں بھی رکا نہیں |
| اے مصلحت پسند ہمارا بھی تیرے ساتھ |
| ہر چند رابطہ ہے مگر رابطہ نہیں |
| دنیا سے چند روز میں سب کچھ تو مل گیا |
| ملنا اب اور کیا ہے جو اب تک ملا نہیں |
| ممکن نہیں کہ آئیں عزائم میں لغزشیں |
| افتادہ وقت ہی تو ہے افتاد پا نہیں |
| چھوٹا ہوں اس لئے مجھے احساں ہیں سب کے یاد |
| محسن کو بھول جاؤں میں اتنا بڑا نہیں |
| احوال واقعی تو ہے خود ہی زبان جاں |
| لیکن سر غرور کہیں بھی جھکا نہیں |
| میں تجھ کو یاد آؤں اور آؤں تمام عمر |
| اے دوست میں برا ہوں پر اتنا برا نہیں |
| جو بونے والے بو کے تو جو چل دئے مگر |
| کہتے ہیں اب کے فصل میں گندم اگا نہیں |
| خواب بقا کی بس یہی تعبیر ہے کہ لیثؔ |
| دنیا میں صرف ایک فنا کو فنا نہیں |
غزل
| تم نے بھولے سے کبھی یہ نہیں سوچا ہوگا |
| ہم جو بچھڑیں گے تو کیا حال ہمارا ہوگا |
| آ گئے ہو تو اجالا ہے مری دنیا میں |
| جاؤ گے تم تو اندھیرا ہی اندھیرا ہوگا |
| یہ نہ کہیے کہ مری آنکھ سے ٹپکا آنسو |
| چھوڑیئے بھی کوئی ٹوٹا ہوا تارا ہوگا |
| کیا خبر تھی کی ترے شہر سے پہلے اے دوست |
| رات آ جائے گی اور راہ میں دریا ہوگا |
| خواب لب خواب جبیں خواب ادا خواب حیا |
| اتنے خوابوں میں کوئی خواب تو سچا ہوگا |
| دل کے آئینے میں کر عکس تمنا نہ تلاش |
| تو مقابل ہے تو حیرت کے سوا کیا ہوگا |
| پیکر عشق تو فرہاد بھی تھا مجنوں بھی |
| اور وہ شخص کہ تو نے جسے چاہا ہوگا |
| آج تو خوش ہوں بہت خوش ہوں بہت ہی خوش ہوں |
| اس تصور میں میں کانپ اٹھتا ہوں کل کیا ہوگا |
| ایک وہ ہیں جنہیں خلوت میں بھی لطف جلوت |
| ہائے وہ شخص جو محفل میں بھی تنہا ہوگا |
| فکر انجام محبت کی ہے توہین اے لیثؔ |
| وہی ہوگا مری قسمت میں جو لکھا ہوگا |
غزل
| خوب انداز پذیرائی ہے |
| عزت نفس پہ بن آئی ہے |
| غم دوراں غم جاناں غم جاں |
| میری ان سب سے شناسائی ہے |
| ہاتھ پھیلایا ہے اپنے آگے |
| یہ گدائی ہے کہ دارائی ہے |
| دل کے آئینے میں یہ تو ہے کہ میں |
| ایک صورت سی نظر آئی ہے |
| تجربہ یہ ہے کہ ہر زلف خرد |
| دست وحشت ہی نے سلجھائی ہے |
| دل کو افلاس کا احساس نہیں |
| کیسی دولت مرے ہاتھ آئی ہے |
| حسن محسوس جسے کہتے ہیں |
| میرے احساس کی رعنائی ہے |
| اے بہار لب و عارض یہ بتا |
| تو کسی کو کبھی راس آئی ہے |
| وقت ہے در پئے آزار مگر |
| لیثؔ کو زعم شکیبائی ہے |