فاطمہ ثریا بجیا
1930-2016 | کراچی، پاکستان
معروف پاکستانی ڈرامہ نگار ، مصنفہ
| فاطمہ ثریا بجیا | |
| معلومات شخصیت | |
| پیدائش | اگست 1930ء حیدر آباد |
| وفات | 10 فروری 2016ء (85–86 سال) کراچی |
| وجہ وفات | سرطان |
| طرز وفات | طبعی موت |
| شہریت | پاکستان برطانوی ہند |
| بہن/بھائی | زبیدہ آپا |
| عملی زندگی | |
| پیشہ | ناول نگار، ڈراما نگار، منظر نویس |
| پیشہ ورانہ زبان | اردو |
| اعزازات | |
|
تمغائے حسن کارکردگی ہلال امتیاز | |
تعارف
معروف ناول نگار، ڈراما نویس اور کہانی کار، اردو ادب کا بہت بڑا نام فاطمہ ثریا بجیا ہندوستان کے شہر حیدرآباد دکن میں پیدا ہوئیں۔ ان کی تاریخِ پیدائش 1 ستمبر 1930ء ہے۔ اس دور میں عورتیں باقاعدہ اسکول نہیں جاتیں، اس لیے بجیا نے اسکول سے تعلیم حاصل نہیں کی تھی، مگر ان کی ادبی خدمات نے انہیں ادب کی دنیا میں چمکتے ستارے کی مانند مقام عطا کیا۔
ادبی سفر
تقسیمِ پاکستان کے وقت جب وہ اپنے خاندان کے ساتھ کراچی ہجرت کر رہی تھیں، ان کے پاس 80 ہزار کتابوں کا ذخیرہ تھا۔ بجیا نے 14 برس کی عمر میں 250 صفحات پر مشتمل ایک مکمل ناول تحریر کیا، جس کی 1000 کاپیاں چھپیں۔ پھر جب انہوں نے ٹی وی کے لیے لکھنا شروع کیا، تو ایک ڈرامے کی قسط کے لیے انہیں صرف ڈھائی سو روپے ملتے تھے۔
ڈرامہ نگاری
1960 میں وہ پاکستان ٹیلی وژن سے منسلک ہوئیں اور بے شمار لازوال ڈرامے لکھے۔1966ء میں انہوں نے اداکاری کے ذریعے شروعات ک، جس سے ان میں ڈرامہ نگاری کا شوق بیدار ہوا۔ ان کا پہلا طویل دورانیے کا ڈرامہ ”مہمان“ تھا۔
جاپانی شاعری
بجیا نے اردو ادب میں جاپانی طرز کی شاعری (جیسے ہائیکو اور واکلا) کو گیارہ پاکستانی زبانوں میں متعارف کروایا، جو ان کی ادبی خدمات کا ایک نمایاں حصہ ہیں۔
ادبی خدمات اور انداز
ان کے ڈراموں میں کردار نگاری، مکالمہ نگاری اور جزئیات کی گہرائی کو خاص اہمیت دی گئی۔ ان کے ڈرامے نہ صرف پاکستان بلکہ بھارت، بنگلہ دیش اور دیگر ممالک میں بھی مقبول ہوئے۔ ان کے حلقہ احباب انہیں تہذیب، شفقت اور خلوص کا پیکر کہتے ہیں۔
اہم تصانیف
انہوں نے بہت سے ڈرامے اور ادبی کام تخلیق کیے، جن میں قابلِ ذکر یہ ہیں:
- اوراق
- انارکلی
- سسی پنوں
- اساوری
- تصویر کائنات
اور بچوں کے پروگراموں کے لیے بھی کافی کام کیا۔
اعزازات
فاطمہ ثریا بجیا کو علم و ادب میں غیر معمولی خدمات پر حکومتِ پاکستان نے تمغہ برائے حسنِ کارکردگی اور ہلالِ امتیاز سے نوازا، جبکہ جاپان نے بھی اپنا اعلیٰ ترین شہری اعزاز عطا کیا۔
وفات
فاطمہ ثریا بجیا 10 فروری 2016ء کو علالت کے بعد انتقال کر گئیں۔