Skip to content
عصمت جاوید

عصمت جاوید

1936-2002
نقاد، محقق اور شاعر

عصمت جاوید
معلومات شخصیت
نامعصمت اللہ
قلمی نامعصمت جاوید
پیدائش2 اگست 1922ء | پونا، انڈیا
وفات19 اگست 2002ء
فنمصنف ، شاعر
اصناف ادبشاعری

تصانیف

  • اکیلا درخت
  • بیاں اپنا اپنا
  • فکر پیما
  • لسانیاتی جائزے
  • نئی اردو قواعد
  • قفس رنگ
  • اردو پر فارسی کے لسانی اثرات
  • وجدان

نمونہ کلام

غزل

مجھے تھا ناز اک دل پر ہوا نذر جنوں وہ بھی
جنوں کیسا کہ حسن یار کا تھا اک فسوں وہ بھی
محبت کو جنوں تو ہم بھی کہتے ہیں مگر پھر بھی
جسے کہتے ہیں سب ترک محبت ہے جنوں وہ بھی
محبت ایک شعلہ جس میں گرمی بھی اجالا بھی
جسے سمجھا تھا ساز عشق ہے سوز دروں وہ بھی
اگر جنت فقط آسودگی کام و دہن کی ہے
تو پھر کیوں میری نظروں میں نہ ہو دنیائے دوں وہ بھی
تمہاری نذر کے قابل اگر کچھ تھا تو دل میرا
مگر ہے پنجۂ آلام میں صید زبوں وہ بھی
رہے دنیا کے طالب ترک دنیا کر کے بھی دیکھا
تمناؤں کا خوں یہ بھی تمناؤں کا خوں وہ بھی
دیار عشق میں ہم خاکسار اچھے رہے جاویدؔ
جو سرکش تھے یہاں پائے گئے ہیں سرنگوں وہ بھی

غزل

جو مستحق ہیں اصل میں آب حیات کے
پیاسے وہی ملیں گے کنارے فرات کے
اب اک نئی لغت کے حوالے سے بات کر
اب خیر و شر میں رنگ کہاں ہیں ثبات کے
مذہب سے ہٹ کے کھوج کریں تو پتہ چلے
مابین کیا تھا غزنوی و سومنات کے
سورج کی روشنی میں بلا کر نہ کر ذلیل
رہنے دے رات میں جو پرندے ہیں رات کے
افسوس ان سے کعبۂ دل ہو نہ سکا پاک
چرچے وہی ہیں آج بھی لات و منات کے
آوارہ پھر رہے ہیں جڑوں کی تلاش میں
ہم پھول پھول گھومتے بھونرے حیات کے
کیا کیا ہوس ہے حضرت جاویدؔ کو نہ پوچھ
پابند ہیں اگرچہ وہ صوم و صلٰوۃ کے

اردو کتابیں 2020ء۔ جملہ حقوق محفوظ ہیں

صرف کتاب ڈان لوڈ ہو سکتی ہے