Skip to content
ضیا فتح آبادی

ضیا فتح آبادی

1913—1986 | کراچی ، پاکستان
پاکستانی اردو شاعر

ضیا فتح آبادی
معلومات شخصیت
پیدائش9 فروری 1913ء
کپور تھلہ
وفات19 اگست 1986ء (73 سال)
دہلی
شہریت بھارت (26 جنوری 1950–)
برطانوی ہند (–14 اگست 1947)
ڈومنین بھارت (15 اگست 1947–26 جنوری 1950)
فنکارانہ زندگی
مادر علمیفورمن کرسچین کالج
پیشہشاعر ، مصنف

حالات زندگی اور ادبی خدمات

ضیاء فتح آبادی کا اصل نام مہر لال سونی تھا۔ وہ کپورتھلہ پنجاب میں اپنے ماموں شنکر داس پوری کے گھر 09 فروری 1913ء کو پیدا ہوئے۔ وہ ایک اردو نظم نگار و غزل گو شاعر تھے۔ انکے والد منشی رام سونی فتح آباد ضلع ترن تارن پنجاب کے رہنے والے تھے اور پیشے کے اعتبار سے ایک مدنی مہندس تھے۔ ضیاء نے اپنی ابتدائی تعلیم جے پور راجستھان کے مہاراجہ ہائی سکول میں حاصل کی اور اسکے بعد 1931 سے لیکر 1935 تک لاہور کے فورمین کرسچن کالج میں پڑھتے ہوئے بی اے (آنرز) (فارسی) اور ایم اے (انگریزی) کی اسناد حاصل کیں اسی دوران انکی ملاقات کرشن چندر ، ساغر نظامی ، جوش ملیح آبادی ، میراجی اور ساحر ہوشیارپوری سے ہوئی۔ ان احباب میں آپس میں ایک ایسا رشتہ قایم ہوا جو تمام عمر بخوبی نبھایا گیا۔ انہی دنوں انکے کالج میں میرا نام کی ایک بنگالی لڑکی بھی پڑھتی تھی کہتے ہیں کہ اسکے حسن کا بہت چرچا تھا۔ اسی کے نام پر ضیاء کے دوست محمد ثناءاللہ ڈار "ساحری” نے اپنا تخلص میراجی رکھا تھا۔ اسی میرا نے ضیاء پر بھی اپنا اثر چھوڑا۔
ضیاء کی اردو شاعری کا سفر انکی والدہ کی نگرانی میں مولوی اصغر علی حیاء جے پوری کی مدد سے 1925 میں شروع ہو گیا تھا اور انکا نام 1929 میں ہی ابھرنے لگا تھا۔ انکو ضیاء تخلص غلام قادر امرتسری نے عطا کیا تھا۔ 1930 میں ضیاء سیماب اکبر آبادی کے شاگرد ہوگئے تھے

ضیاء کا اولین مجموعہ کلام” طلوع ” کے نام سے ساغر نظامی نے 1933 میں میرٹھ شہر سے شائع کیا تھا۔ اسکے بعد انکے مزید مجموعے شائع ہو چکے ہیں۔ ضیاء نے افسانے بھی لکھے اور تنقیدی مضامین بھی۔ ضیاء کے نشری کارناموں میں سیماب اکبر آبادی پر لکھے گئے ” ذکرِ سیماب ” اور ” سیماب بنام ضیاء” اہم ہیں 1951 میں ضیاء نے سیماب نام سے ایک ماہانہ رسالہ بھی شروع کیا تھا جو انکی ملازمت کی بندشوں نے سال بھر ہی چلنے دیا اور پھر بند کر دینا پڑا تھا۔ ضیاء نے ریزرو بینک آف انڈیا میں 1936 سے کام کرنا شروع کیا تھا جہاں سے 1971 میں ریٹائر ہونے کے بعد دہلی میں رہنے لگے تھے۔


تصانیف

  • طلوع
  • نور مشرق
  • نئی صبح
  • ضیاء کے سو شیر
  • گرد راہ
  • حسن غزل
  • دھوپ اور چاندنی
  • رنگ و نور
  • سوچ کا سفر
  • نرم گرم ہوائیں
  • میری تصویر

وفات

ضیاء فتح آبادی کا انتقال 19 اگست 1986 کو ایک طویل علالت سہنے کے بعد دہلی کے سر گنگا رام ہسپتال میں ہوا۔ آپ نے 73 برس کی عمر پائی۔


ضیا فتح آبادی کی کتابیں

صفحہ 1

اردو کتابیں 2020ء۔ جملہ حقوق محفوظ ہیں

صرف کتاب ڈان لوڈ ہو سکتی ہے