Skip to content
ضیاء الحسن

ضیاء الحسن

1964 | لاہور، پاکستان
اردو شاعر، نامور نقاد اور محقق
اورینٹل کالج (پنجاب یونیورسٹی) کے اردو پروفیسر

ضیاء الحسن
معلومات شخصیت
نامضیاء الحسن
پیدائش28 اکتوبر 1964ء | قصبہ شیر سلطان ضلع مظفرگڑھ ، پاکستان
والد کا ناممحمود الحسن
پیشہ شاعر، نقاد، پروفیسر
زباناردو ، سرائیکی ، پنجابی
شہریتپاکستان

حالات زندگی

ضیاء الحسن 28 اکتوبر 1964 کو ضلع مظفر گڑھ کے قصبہ شیر سلطان میں پیدا ہوئے۔ ان کے والد محمود الحسن پیشے کے لحاظ سے وکیل تھے اور انہوں نے ایل ایل ایم کی تعلیم انگلستان سے حاصل کی تھی اور ان کی والدہ خورشید بیگم نہایت مذہبی اور صوم و صلوۃ کی پابند خاتون تھیں۔ ان کے دو بھائی بالترتیب مقصود الحسن جو کہ پیشے کے لحاظ سے وکیل اور ابو الحسن جو کہ اکنامکس کے استاد ہیں اور اس کے علاوہ ان کی تین بہنیں عذرا بتول ، خالدہ بتول اور اسماء بتول ہیں۔ ضیاء الحسن کی تعلیم کا آغاز قصبہ جلالی سے ہوا پانچویں جماعت تک یہی شعر تعلیم حاصل کی اور اس کے بعد والد صاحب کے ساتھہ لاہور منتقل ہو گئے۔ 1980ء میں چوبرجی گارڈنز لاہور سے میٹرک کیا اور بعد میں گورنمنٹ ایم اے او کالج لاہور سے ایف ایس سی کی۔ ایف سی کالج سے گریجویشن کرنے کے بعد ایم اے اردو پنجاب یونیورسٹی اورئینٹل کالج سے کیا۔ ایم فل میں سجاد باقر رضوی کی نگرانی میں ” ن م راشد کی شاعری میں عصری شعور “ کے نام سے مقالہ تحریر کیا۔ 2004ء میں پی ایچ ڈی کی ڈگری کا عنوان ” اردو تنقید کا عمرانی دابستان ” حاصل کیا۔

ڈاکٹر ضیاء الحسن کا خاندان حضرت بہاؤالدین زکریا ملتانی کی لڑی سے ہے۔ ان کے آباؤ اجداد ضلع مظفر گڑھ کے سرائیکی زمیندار تھے۔ ان کے دادا مولوی سراج الدین پیشے کے لحاظ سے زمیندار تھے لیکن اس کے ساتھ وہ عالم دین بھی تھے اور اس کے علاوہ ان کے نانا قادر بخش کا ذریعہ معاش بھی زمینداری تھا۔ ان کی نانی نہایت ہی نیک سیرت اور پرہیز گار عورت تھی جن سے علاقے کی ہزاروں لڑکیوں نے قرآن پاک کی تعلیم حاصل کرنے کا شرف حاصل کیا۔

ڈاکٹر ضیاء الحسن کی شادی حمیدہ شاہین سے 1996ء میں ہوئی جو کہ گورنمنٹ کالج برائے خواتین واپڈا ٹاؤن لاہور میں بطور صدر شعبہ اسلامیہ تعینات ہیں اور ان کا شمار عصر حاضر کی نمائندہ شاعرات میں ہوتا ہے جبکہ ان کے تین شعری مجموعے ”دستک“، ”دشت وجود “، اور "زندہ ہوں ” اب تک شائع ہو چکے ہیں۔ ڈاکٹر ضیاء الحسن کی شاعری کا آغاز بھی اسی زمانے سے ہوا اور انہوں نے ریڈیو پروگرام میں بھی حصہ لیا اور ان کے ادبی حلقوں میں بھی شریک ہونے لگے۔


تصانیف

شعری
  • بار مسلسل
  • آدھی بھوک اور پوری گالیاں
  • ازل سے
نثری
  • نئے آدمی کا خواب
  • عمرانی تنقید
  • ن م راشد شخصیت اور فن
  • شہزاد احمد شخصیت اور فن
  • جدید اردو نظم، آغاز و ارتقاء

نمونہ کلام

غزل

موجود کچھ نہیں یہاں معدوم کچھ نہیں
یہ زیست ہے تو زیست کا مفہوم کچھ نہیں
منظر حجاب اور ہی کچھ منظروں کے ہیں
معلوم ہم کو یہ ہے کہ معلوم کچھ نہیں
خواب و خیال سمجھیں تو موجود ہے جہاں
کچھ بھی سوائے نقطۂ موہوم کچھ نہیں
حرف و بیاں نظارے ستارے دل و نظر
ہر شے میں انتشار ہے منظوم کچھ نہیں
جو مل گیا ہے، جس کی ہمیں آرزو رہی
اور جس سے خود کو رکھا ہے محروم کچھ نہیں
جس کے بغیر جی نہیں سکتے تھے جیتے ہیں
پس طے ہوا کہ لازم و ملزوم کچھ نہیں

غزل

کہاں لے جائیں گے سامان اتنا
اگر آ جائے ہم کو دھیان اتنا
یہ آنکھیں ڈھونڈھتی رہتی ہیں کس کو
یہ دل رہتا ہے کیوں حیران اتنا
اسے کوئی سمجھ سکتا ہے کیسے
بدل جاتا ہو جو ہر آن اتنا
جو کرنا تھا وہ میں نے کر لیا ہے
مرے جوہر میں تھا امکان اتنا
اسے ہم بھول تو سکتے ہیں لیکن
نہیں یہ کام کچھ آسان اتنا
کسے رہنا ہے دنیا میں ہمیشہ
کہاں ہوگا کوئی نادان اتنا
ضیاؔ دنیا میں جتنا رہ چکے ہم
بھلا رہتے ہیں کب مہمان اتنا

ضیاء الحسن کی کتابیں

صفحہ 1

اردو کتابیں 2020ء۔ جملہ حقوق محفوظ ہیں

صرف کتاب ڈان لوڈ ہو سکتی ہے