Skip to content
صفدر آہ سیتاپوری

صفدر آہ سیتاپوری

(1905—1980) سیتاپور، انڈیا
شاعر، محقق ، نغمہ نگار، فلم ڈائریکٹر

صفدر آہ سیتاپوری ڈاکٹر صفدر آہ سیتاپوری (محمد صفدر) ایک شاعر، ادیب، نغمہ نگار، منظر نویس، محقق اور فلم ڈائریکٹر تھے۔ انھیں 1940ء اور 1950ء کی دہائیوں میں ایک معروف شاعر اور نغمہ نگار کے طور پر پہچانا جاتا تھا۔

صفدر آہ سیتاپوری
معلومات شخصیت
پیدائش 28 اگست 1905ء
سیتاپور، اتر پردیش، برطانوی ہند
وفات 29 جولائی 1980ء (75 سال)
ممبئی، بھارت
شہریت برطانوی ہند
بھارت
عملی زندگی
پیشہ شاعر، ناول نگار، منظر نویس
پیشہ ورانہ زبان اردو

تعارف اور حالاتِ زندگی

صفدر آہ سیتاپوری 28 اگست 1905ء کو سیتاپور، اتر پردیش، برطانوی ہند میں پیدا ہوئے۔ ان کا اصل نام محمد صفدر تھا اور آہ ان کا تخلص تھا۔وہ انگریزی، فارسی، عربی اور ہندی زبانوں میں بھی ماہر تھے۔1959ء میں انہیں دل کا دورہ پڑا اور 1961ء میں انھوں نے فلموں سے کنارہ کشی اختیار کر لی۔


ادبی زندگی

صرف 14 سال کی عمر میں ان کی تحریریں مختلف اخبارات اور رسائل میں شائع ہونا شروع ہو گئیں۔ شاعری میں ان کے استاد مشہور کلاسیکی شعرا شامل تھے۔ ان کی پہلی شاعری 1918ء میں شائع ہوئی۔ انھوں نے نظم، نثر، افسانے، ڈرامے اور خصوصاً غزل پر کام کیا۔ ان کی شاعری میں انسانی جذبات، محبت، اجتماعیت اور سماجی حقیقت کی جھلک عیاں رہی۔


فلم انڈسٹری اور نغمہ نگاری

1940ء کی دہائی میں صفدر آہ سیتاپوری ممبئی چلے گئے اور فلموں کے لیے نغمے لکھنے لگے۔ ان کے مشہور گیتوں میں سے ایک "دل جلتا ہے تو جلنے دے” ہے، جسے گلوکار مکیش نے گایا۔ گیت کو فلم “پہلی نظر” میں شامل کیا گیا جس نے اس دور میں گراموفون ریکارڈز کے ریکارڈ توڑ دیے۔ انہوں نے تقریباً 23 سال تک فلمی صنعت میں بطور شاعر اور گیت نگار کام کیا۔


تصانیف

صفدر آہ سیتاپوری کی کچھ نمایاں کتابیں اور مجموعے:

  • آہِ رسا (غزلوں کا مجموعہ)
  • مختلفات (شعری مجموعہ)
  • آہ کے سو شعر
  • نقش (رباعیات)
  • نو بہ نو (مثنوی)
  • گلبن (نظموں کا مجموعہ)
  • بیاض (نظموں کا مجموعہ)
  • غزل پارے (غزلوں کا مجموعہ)

اعزازات

1979ء میں ڈاکٹر زرینہ ثانی نے صفدر آہ پر ایک کتاب لکھی جس میں ان کی شاعری کا تنقیدی جائزہ لیا گیا۔


وفات

صفدر آہ سیتاپوری 29 جولائی 1980ء کو ممبئی، بھارت میں وفات پا گئے۔


اردو کتابیں 2020ء۔ جملہ حقوق محفوظ ہیں