Skip to content
شوکت پردیسی

شوکت پردیسی

(1924—1995) جون پور ، انڈیا
شاعر،صحافی،نغمہ نگار،مکالمہ نگار،ادیب

شوکت پردیسی
معلومات شخصیت
اصل نامشیخ محمد عرفان
پیدائش1924 | ملیشیا
وفات1995 | جون پور
فنشاعر،صحافی،نغمہ نگار،مکالمہ نگار،ادیب
شہریتبھارت

حالات زندگی

شیخ محمد عرفان المتخلص بہ شوکت پردیسی کی پیدائش 1924ءمیں ملیشیا میں ہوئی۔ ان کے والد شیخ صاحب علی یوں تو ضلع جونپور میں واقع موضع معروف پور کے رہنے والے تھے لیکن ان کی زندگی کا بڑا حصہ ملیشیا میں گزرا۔ تقریباً بارہ سال کی عمر میں وہ والدین کے ساتھ ہندوستان آئے۔ دو سال لکھنوکے درالعلوم ندوة العلماءمیں تعلیم حاصل کرنے کے بعد وہ جونپور منتقل ہوگئے اور شہر کے مشن اسکول(جو اب راج کالج کے نام سے جاتا جاتا ہے) میں داخلہ لیا۔ اس نئی درسگاہ میں ان کا تعلیمی سلسلہ مڈل اسکول تک چلا لیکن اس کے بعد پھر وہ قائم نہیں رہ سکا۔ 1943ءمیں ان کا عقد حسن آرہ بیگم سے ہوا۔ وہ حافظ اختر علی کی بیٹی تھیں جن کا تعلق جونپور ضلع کے جمدہاں گاﺅں سے تھا۔ شادی کے کچھ عرصے بعد شوکت پردیسی کے والد کا انتقال ہوگیا اور گھر کی ذمہ داریوں کا بوجھ ان پر آگیا۔حصول معاش کے سلسلے میں کئی ناکام کوششیں کیں اور پھر ناکامیوں کے چلتے سسرال کو مسکن بنا لیا۔ لیکن گھر دامادی زیادہ دنوں تک نہیں چل سکی اور پھر 1950ءمیں عروس البلاد ممبئی کو انہوں نے اپنا نیا میدان عمل بنایا۔
قیام ممبئی کے دوران وہ روز نامہ ”انقلاب“ اور ہفتہ وار ”فلمز ٹائمس“ سے منسلک ہوئے، بچوں کا ماہنامہ”منا“ جاری کیا اور کچھ فلموں کے لےے گیت اور مکالمے بھی لکھے۔ بعد ازاں 1958ءمیں اختلاجی دوروں کا سلسلہ کچھ ایسا شروع ہوا کہ وہ مستقل طور پر صاحب فراش ہوگئے۔ ایسے میں ان کا ممبئی رہ پانا ممکن نہیں تھا۔ بالآخر ایک بار پھر وہ جمدہاں اپنی سسرال آگئے۔ بقیہ زندگی انہوں نے وہیں گزاری 1995ءمیں انہوں نے عالم برزخ کا سفر کیا۔


تصانیف

ان کی کل چار تصنیفات ان کے فرزندان کے ذریعے منظر عام پر آچکی ہیں۔ ”تحفت اطفال“ بچوں کی نظموں کا مجموعہ ہے۔ ”مضراب سخن“ ان کی نظموں اور گیتوں کا مجموعہ ہے۔ ”ساز نغمہ بار“ میں ان کی غزلیں، رباعیاں اور قطعات شامل ہیں۔ ان کی چوتھی کتاب”مضامین شوکت“ میں ان کی کچھ نثری تحریر میں شامل ہیں۔


شوکت پردیسی کی کتابیں

صفحہ 1

شوکت پردیسی پر کتابیں

صفحہ 1

اردو کتابیں 2020ء۔ جملہ حقوق محفوظ ہیں