سید علی سید کیتھلی
-1877 | کیتھل ، برصغیر پاک و ہند
حضرت سکندر کیتھلی کے ساتویں پشت میں
عالمِ تصوف اور معرفت کے جامع
| سید علی سید کیتھلی | |
| معلومات شخصیت | |
| نام | سید علی |
| تخلص | سید |
| فن | شاعر |
| زبان | اردو، فارسی |
| شہریت | برصغیر پا و ہند |
پیدائش
سید علی شاه سید کیتهلی ضلع کرنال میں پیدا ہوئے۔ شہرہ آفاق بزرگ حضرت شاہ سکندر قادری نبیرہ حضرت شاہ کمال کیتھلی کی درگاہ کے سجادہ نشین تھے۔ انہوں نے فارسی زبان میں تصوف کے موضوع پر کچھ رسائل اور کتابیں تصنیف کیں۔ آپ فارسی کے علاوہ اردو میں بھی شعر کہتے تھے۔ سید، آتش، ذوق، غالب، مومن اور ناسخ کے معاصر ہیں۔ آپ کی غزلیات میں خواجہ میر درد کا رنگ غالب ہے۔
تصانیف
1۔ دیوان سید ( قند نبات )
دیوان سید ( قند نبات ) کے نام سے فخر برادران شیخو پورہ نے کچھ عرصہ ہوا آپ کا دیوان شائع کیا ہے۔ جس میں غزلیات کے علاوہ رباعیات چار مخمس اور ایک ترکیب بند شامل ہے۔
2 ۔رسالہ حفظ الایمان
3۔ رسالہ نور الایمان
وفات
آپ نے 6 رنگ 1877ء کو کیتھل میں انتقال فرمایا۔
نمونہ کلام
رباعی
| جو دردِ دل ہے وہ تجھ سے کہا نہیں جاتا |
| اگر بیاں نہ کروں تو رہا نہیں جاتا |
| ستم کا حال یہ ہے کہ گر فرشتہ ہو جاؤں |
| ہزار حیف کہ تب بھی سہا نہیں جاتا |