سجاد باقر رضوی
1928-1982 | کراچی ، پاکستان
اہم جدید شاعر اور نقاد
اردو اور انگریزی ادب کے استادوں میں شمار
ڈاکٹر سجاد باقر رضوی (پیدائش: 4 اکتوبر، 1928ء- وفات: 13 اگست، 1992ء) پاکستان سے تعلق رکھنے والے اردو کے ممتاز شاعر، محقق، مترجم، نقاد اور ماہرِ تعلیم تھے جو اپنی کتاب مغرب کے تنقیدی اصول کی وجہ سے مشہور و معروف ہیں۔
| سجاد باقر رضوی | |
| معلومات شخصیت | |
| پیدائش | 4 اکتوبر 1928ء اعظم گڑھ ، برطانوی ہند |
| وفات | 13 اگست 1992ء (64 سال) لاہور ، پاکستان |
| مدفن | ماڈل ٹاؤن، لاہور |
| شہریت | پاکستان |
| عملی زندگی | |
| مادر علمی | جامعہ کراچی |
| تعلیمی اسناد | ایم اے ، ڈاکٹر آف فلاسفی |
| پیشہ | مترجم ، شاعر ، ادبی نقاد ، محقق |
| پیشہ ورانہ زبان | اردو ، انگریزی |
| شعبۂ عمل | غزل ، ترجمہ ، ادبی تنقید ، نظم |
| ملازمت | اسلامیہ کالج لاہور ، اورینٹل کالج لاہور |
حالات زندگی
ڈاکٹر سجاد باقر رضوی 4 اکتوبر، 1928ء کو برطانوی ہندوستان میں ضلع اعظم گڑھ کی تحصیل پھول پور کے گاؤں چمانواں میں پیدا ہوئے۔ ان کا اصل نام سید اولاد باقر تھا۔ 1942ء میں میٹرک اور 1946ء میں انٹرمیڈیٹ کا امتحان یوپی بورڈ سے بطور پرائیویٹ امیدوار پاس کیا۔ قیام پاکستان کے بعد انھوں نے پہلے کراچی میں قیام اختیار کیا اور کراچی یونیورسٹی سے بی اے آنرز (انگریزی) اور ایم اے (انگریزی) کی ڈگریاں حاصل کیں۔ پھر انھوں نے اسی یونیورسٹی سے اردو میں پی ایچ ڈی بھی کیا بعد ازاں وہ لاہور منتقل ہو گئے جہاں وہ اسلامیہ کالج سول لائنز اور اورینٹل کالج جامعہ پنجاب سے وابستہ رہے۔
ادبی خدمات
سجاد باقر رضوی نے بیک وقت تنقید بھی لکھی، شاعری بھی کی اور انگریزی زبان کی کتب کے اردو میں تراجم کرکے اردو ادب کے ذخیرے میں گراں قدر اضافہ بھی کیا۔ ان کا شمار ایسے نقادوں میں ہوتا ہے جنھوں نے تنقید کو نہ صرف یہ کہ پڑھنے کے قابل بنایا، بلکہ انھوں نے فن پاروں کو پرکھنے کے لیے اصول و ضوابط بھی وضع کیے۔ ان کی تنقیدی کتب مغرب کے تنقیدی اصول اور تہذیب و تخلیق اردو تنقید کی اہم کتابوں میں شمار ہوتی ہیں۔ ان کے شعری مجموعوں میں تیشۂ لفظ اور جوئے معانی شامل ہیں جبکہ ان کے تراجم میں داستان مغلیہ، افتاد گان خاک، حضرت بلال اور بدلتی دنیا کے تقاضے کے نام سرفہرست ہیں۔ اس کے علاوہ ان کے پی ایچ ڈی کا مقالہ طنز و مزاح کے نظریاتی مباحث اور کلاسیکی اردو شاعری 1857ء تک بھی اشاعت پزیر ہو چکا ہے۔
تصانیف
تنقید
- 1966ء – مغرب کے تنقیدی اصول
- 1966ء – تہذیب و تخلیق
- 1988ء – وضاحتین
- 1988ء – معروضات
- 1988ء – باتیں
- 1994ء – علامہ اقبال اور عرض حال
شعری مجموعے
- 1968ء – تیشۂ لفظ
- 1991ء – جوئے معانی
تراجم
- 1968ء – داستان مغلیہ
- 1969ء – جدید ناول نگار (امریکا میں)
- 1969ء – افتاد گان خاک
- 1988ء – بلال
- 1991ء – بدلتی دنیا کے تقاضے
- 1996ء – جدید دنیا میں روایتی اسلام
متفرقات
- 1969ء – غالب – ذاتی تاثرات کے آئینے میں (مرتب)
- 1988ء – قائد اعظم محمد علی جناح -معمار پاکستان
درسی کتب
1973ء – مرقع ادب
وفات
سجاد باقر رضوی 13 اگست، 1992ء کو لاہور، پاکستان وفات پاگئے۔ وہ لاہور میں ماڈل ٹاؤن کے جی بلاک کے قبرستان میں سپردِ خاک ہوئے۔
نمونہ کلام
غزل
| کم ظرف بھی ہے پی کے بہکتا بھی بہت ہے |
| بھرتا بھی نہیں اور چھلکتا بھی بہت ہے |
| اللہ کی مرضی کا تو سختی سے ہے پابند |
| حاکم کی رضا ہو تو لچکتا بھی بہت ہے |
| کوتاہ قدی کہتی ہے کھٹے ہیں یہ انگور |
| لیکن گہ و بے گاہ لپکتا بھی بہت ہے |
| پروا ہے نہ کچھ تال کی نے سر کی خبر ہے |
| پر ساز پہ دنیا کے مٹکتا بھی بہت ہے |
| شوریدگی بڑھتی ہے در لیلی زر پر |
| دیوار پہ یہ سر کو پٹکتا بھی بہت ہے |
| محفل میں تو سنیے ہوس جاہ پہ تقریر |
| پہلو میں یہی خار کھٹکتا بھی بہت ہے |
| باقرؔ جو بھٹکتا ہے معانی کے سفر میں |
| ہو صورت زیبا تو اٹکتا بھی بہت ہے |
غزل
| لفظ جب کوئی نہ ہاتھ آیا معانی کے لیے |
| کیا مزے ہم نے زبان بے زبانی کے لیے |
| یہ دوراہا ہے چلو تم رنگ و بو کی کھوج میں |
| ہم چلے صحرائے دل کی باغبانی کے لیے |
| زندگی اپنی تھی گویا لمحۂ فرقت کا طول |
| کچھ مزے ہم نے بھی عمر جاودانی کے لیے |
| میں بھلا ٹھنڈی ہوا سے کیا الجھتا چپ رہا |
| پھول کی خوش بو بہت تھی سرگرانی کے لیے |
| ٹوٹ پڑتی تھیں گھٹائیں جن کی آنکھیں دیکھ کر |
| وہ بھری برسات میں ترسے ہیں پانی کے لیے |
| راکھ ارمانوں کی گیلی لکڑیاں احساس کی |
| ہم کو یہ ساماں ملے شعلہ بیانی کے لیے |
| شمع ہو فانوس سے باہر تو گل ہو جائے گی |
| بندش الفاظ مت توڑو معانی کے لیے |
| دو کنارے ہوں تو سیل زندگی دریا بنے |
| ایک حد لازم ہے پانی کی روانی کے لیے |
| آج کیوں چپ چپ ہو باقرؔ تم کبھی مشہور تھے |
| دوستوں یاروں میں اپنی خوش بیانی کے لیے |
غزل
| اکثر بیٹھے تنہائی کی زلفیں ہم سلجھاتے ہیں |
| خود سے ایک کہانی کہہ کر پہروں جی بہلاتے ہیں |
| دل میں اک ویرانہ لے کر گلشن گلشن جاتے ہیں |
| آس لگا کر ہم پھولوں سے کیا کیا خاک اڑاتے ہیں |
| میٹھی میٹھی ایک کسک ہے بھینی بھینی ایک مہک |
| دل میں چھالے پھوٹ رہے ہیں پھول سے کھلتے جاتے ہیں |
| بادل گویا دل والے ہیں ٹھیس لگی اور پھوٹ بہے |
| طوفاں بھی بن جاتے ہیں یہ موتی بھی برساتے ہیں |
| ہم بھی ہیں اس دیس کے باسی لیکن ہم کو پوچھے کون |
| وہ بھی ہیں جو تیری گلی کے نام سے رتبہ پاتے ہیں |
| کانٹے تو پھر کانٹے ٹھہرے کس کو ہوں گے ان سے گلے |
| لیکن یہ معصوم شگوفے کیا کیا گل یہ کھلاتے ہیں |
| الجھے الجھے سے کچھ فقرے کچھ بے ربطی لفظوں کی |
| کھل کر بات کہاں کرتے ہیں باقرؔ بات بناتے ہیں |