سجاد بابر
1939-2018 | پاکستان
اردو شاعر ، محقق ، ادیب
| سجاد بابر | |
| معلومات شخصیت | |
| نام | سجاد بابر |
| پیدائش | 6 جنوری 1939ء | حسن ابدال |
| وفات | 19 ستمبر 2018 |
| پیشہ | شاعر |
| زبان | اردو، پشتو |
| شہریت | پاکستان |
پیدائش
سجاد بابر 6 جنوری 1939 ء کو حسن ابدال میں پیدا ہوئے۔
حالات زندگی
ابتدائی تعلیم واہ کینٹ اور پشاور سے حاصل کی۔ گورنمنٹ کالج پشاور سے ایف ایس سی اور اسلامیہ کالج پشاور سے بی ایس آنرز کیا۔ امریکہ کی ایک اوپن یونیورسٹی سے ایم ایس سی ٹیک کی ڈگری حاصل کی۔ دوران تعلیم ہی ان کو پاکستان کونسل آف سائنٹیفک اینڈ انڈسٹریل ریسرچ میں ملازمت مل گئی۔ 1976 کے آخر میں سجاد بابر کو سیون اپ انٹر نیشنل کمپنی کی دوبئی برانچ میں ملازمت ملی اور وہ دیار غیر میں رزق حلال کمانے جا بسے ۔ 1982 میں آرسی کولا انٹر نیشنل سعودی عرب میں ملازمت ملنے کے موقع کو انہوں نے ضائع نہیں کیا اور سر زمین حجاز جا بسے۔ جہاں وہ 1995 تک قیام پذیر رہے۔
تصانیف
- راہرو (شاعری)
- مراحل (شاعری)
وفات
سجاد بابر 19 ستمبر 2019ء کو 79 سال کی عمر میں اس جہان فانی سے کوچ کر گئے۔ مرحو م کا جنازہ منگل کے روز اشرفیہ کالونی پشاور سٹی سے اٹھایا اور آبائی قبرستان میں سپرد خاک کردیا گیا۔
نمونہ کلام
غزل
| اک ہوا اٹھے گی سارے بال و پر لے جائے گی |
| یہ نئی رت اب کے سب کچھ لوٹ کر لے جائے گی |
| ایک خدشہ پہلے دروازے سے اپنے ساتھ ہے |
| راستوں کی دل کشی خوئے سفر لے جائے گی |
| ایک چوراہے پہ لا کر چھپ گیا ہے آفتاب |
| کوئی آوارہ کرن اب در بدر لے جائے گی |
| اک توقع لے کے ٹکرایا ہوں ہر رہرو کے ساتھ |
| کوئی جھنجھلائی ہوئی ٹھوکر تو گھر لے جائے گی |
| دل کے کالے غار میں سانسوں کے پتھر جب گرے |
| ایک ساعت کی چمک صدیوں کے ڈر لے جائے گی |
| فکر کو سجادؔ پہنائے پسندیدہ لباس |
| یہ نہیں سوچا کہ وہ گہرا اثر لے جائے گی |