ریاض رؤفی
1918—1980 | پاکستان
اردو شاعر اور افسانہ نگار
| ریاض رؤفی | |
| معلومات شخصیت | |
| اصل نام | ریاض خالق |
| قلمی نام | ریاض رؤفی |
| پیدائش | 28 دسمبر 1918ء | رائے پور ، برصغیر |
| وفات | 29 اکتوبر 1980ء |
| اصناف ادب | شاعری ، افسانہ |
| زبان | اردو |
| شہریت | پاکستان |
حالات زندگی
ریاض روفی کی شاعری ان کے ٹھوس سماجی و انقلابی شعور کی عکاس ہے۔ وہ ۲۸ دسمبر ۱۹۱۸ء کو ہندوستان کے شہر رائے پور (سی پی) میں پیدا ہوئے۔ علی گڑھ یونیورسٹی سے فارغ التحصیل روفی کا ۱۹۳۹ میں ادبی حلقوں میں ایک سنجیدہ افسانہ نگار کی حیثیت سے تعارف ہوا وہ ترقی پسند ادبی تحریک سے انھی دنوں وابستہ ہو گئے تھے۔ انھوں نے اردو انگریزی دونوں زبانوں میں شاعری کی اور انکے افسانے ، نظمیں اور غزلیں ادب لطیف ، ساقی اور شاہراہ جیسے معیاری ادبی جرائد میں شائع ہوتی رہیں۔ انھوں نے ٹائم آف کراچی، مارننگ نیوز اور ایسوسی ایٹڈ پریس آف پاکستان میں بھی صحافتی فرائض انجام دیئے۔ ۱۹۵۲ء میں ترقی پسند مصنفین کی تحریک کے نہ صرف فعال کارکن تھے ۔ بلکہ اسکے جنرل سیکریٹری بھی رہے ۔ تقسیم کے موضوع پر انکے افسانوں کا پہلا مجموعہ ” کارواں چلتا رہا “ کے نام سے شائع ہوا۔ ۱۹۵۹ء میں آخری افسانہ ”قندیل“ کے نام سے لکھا اور خاموشی اختیار کرلی ۔ لیکن بیس سالہ فنکارانہ زندگی میں کئی معرکتہ آلار آء تحریریں قلم بند کیں۔ ادب برائے زندگی پر ایمان رکھنے والا مصنف و شاعر اپنی قوم کیلئے امیدوں کے چراغ جلائے اپنے خوابوں کی تعبیر اپنی تحریروں میں ڈھونڈتا ہوا ۲۹ اکتوبر ۱۹۸۰ء میں بہت دور چلا گیا۔
تصانیف
- کارواں چلتا رہا
- شمع کی لو تیز کرو