رنج حیدرآبادی
اردو شاعر، ادیب
| اصل نام | محمد علی موسوی |
| قلمی نام | رنج حیدرآبادی |
| شعبہ | شاعری |
| شہریت | بھارتی |
نمونہ کلام
غزل
| دل مرا لے کے یہ کہتے ہیں کہ مال اچھا ہے |
| منتیں خوب ہیں اور ان کا خیال اچھا ہے |
| وہ عیادت کو مری آ کے یہ فرماتے ہیں |
| شکر صد شکر کہ بیمار کا حال اچھا ہے |
| میں یہ کہتا ہوں کہ آغازِ محبت ہے خراب |
| وہ یہ کہتے ہیں محبت کا مآل اچھا ہے |
| ساتھ یوسف کے تجھے مصر میں گر لے جاتے |
| انگلیاں تیری طرف اٹھتیں یہ مال اچھا ہے |
| تیری صورت سے میں دوں کیا مہِ کامل کو مثال |
| اس سے سو درجہ ترا حسن و جمال اچھا ہے |
| دل کو دزدیدہ نگاہوں سے چرا لے جانا |
| تم میں اتنا ہی مری جان کمال اچھا ہے |
| وہ عیادت کے لئے غیر کے گھر جاتے ہیں |
| ہم مرے جاتے ہیں کمبخت کا حال اچھا ہے |
| ٹوٹ جانے کا نہ کچھ رنج نہ کھو جانے کا |
| ہم غریبوں کا یہی جامِ سفال اچھا ہے |
| اپنی قسمت میں کہاں راحت و آرام و نشاط |
| رنج! دنیا میں یہی ہم کو ملال اچھا ہے |