Skip to content
راغب مرادآبادی

راغب مرادآبادی

1918-2011 | کراچی ، پاکستان
پاکستانی شاعر ، ادیب

راغب مراد آبادی اردو زبان کے مشہور شاعر تھے۔

راغب مراد آبادی
معلومات شخصیت
پیدائش27مارچ 1918ء
مراد آباد ، بھارت
وفات18,جنوری 2011ء
، مراد آباد، بھارت
مذہباسلام
فنشاعر
شہریتپاکستان

نام

راغب مراد حسین آبادی کا اصل نام اصغر حسین تھا۔ راغب تخلص کرتے تھے۔

ولادت

27 مارچ 1918ء (13 جمادی الثانی، 1336ھ) میں دہلی میں پیدا ہوئے۔ آبائی وطن مراد آباد تھا۔

تعلیم

ہندوستان میں دہلی کالج سے بی اے کیا۔ قیام پاکستان کے بعد کراچی آئے اور ملازمت لیبر ڈیپارٹمنٹ میں کی۔ 1980ء میں اسی ڈپارٹمنٹ میں پبلک ریلیشن آفیسر کی حیثیت سے وظیفہ حسن خدمت پر سبک دوش ہوئے۔

شاعری

راغب مراد آبادی کا شمار ان ممتاز صاحب فکر اساتذہ میں ہوتا ہے جو کلاسیکی روایات کی باریکیوں کا بھر پور ادراک رکھتے ہیں۔ انھیں شاعری کی مختلف اضاف پر عبور حاصل ہے لیکن تاریخ گوئی اور فی البدیہہ میں بے مثل ہیں زبان و بیاں اور فنی رموز کے حوالے سے ان کا کلام سند کے طور پر پیش کیا جا سکتا ہے لیکن ان کی پہچان ان کی رباعیات ہیں۔ ان کے اب تک 40 مجموعات کلام شائع ہو چکے ہیں۔ جس میں غزلیں، نظمیں، نعت اور پنجابی شاعری شامل ہیں۔ روضہ رسول صلی اللہ علیہ وسلم پر حاضری کے دوران یہ نیت کی کہ ایک ایسا مجموعہ نعت مرتب کیا جائے جس کی ہر نعت کی ردیف محمد صلی اللہ علیہ وسلم ہو قرآن حکیم میں سورة محمد موجود ہے اور یہ اسمِ پاک کلمہ کے حصہ ہے۔ جیسے ہی وطن پہنچے اور ارادہ کو عملی شکل دی اور 76 نعتوں پر مشتمل مجموعہ مرتب کیا۔

تصانیف

  • بدرالدجٰی (نعتیں)
  • آزادی (رباعیات)
  • مکالمات جوش و راغب
  • حضور خاتم الانبیاء (سلام،نعتیہ رباعیات)
  • مدحت خیرالبشر (نعتیہ اشعار)
  • ضیائے سخن
  • محنت کی ریت (منظومات)
  • تحریک (منظومات)
  • ترغیب (مضامین)
  • نذرِ شہدائے کربلا (سلام و رباعیات)
  • ہمارا کشمیر (منظومات)
  • عزم و ایثار (منظومات)
  • تاریاں دی لو (پنجابی شاعری)
  • جادۂ رحمت (سفرنامہ)
  • مدح ِ رسول (غیر منقوط نعتیہ کلام)
  • ساغر صد رنگ (100 منتخب اشعار)
  • امن و امان،قومی یک جہتی،دہشت گردی (انتخاب)
  • رگ ِ گفتار (اُردو،فارسی،غزلیات و رباعیات )

وفات

18 جنوری، 2011ء کو کراچی میں ان کا انتقال ہو گیا

نمونہ کلام

غزل

حق بات ہی کہیں گے سر دار دیکھنا
اہل قلم کی جرأت اظہار دیکھنا
دیکھیں جنہیں ہیں دیر کے دیوار و در عزیز
ہم کو تو صرف سوئے در یار دیکھنا
کرتا رہا قلم یوں ہی شاخیں جو باغباں
ناپید ہوگا سایۂ اشجار دیکھنا
سرکار آپ پر جو چھڑکتے ہیں جان آج
بچ کر چلیں گے کل یہ نمک خوار دیکھنا
بنیاد جس کی ہے ہوس اقتدار پر
ہونے کو ہے وہ قلعہ بھی مسمار دیکھنا
ڈالا جو تم نے ہاتھ کلاہ عوام پر
لگ جائیں گے سروں کے بھی انبار دیکھنا

غزل

عجیب انتشار ہے زمیں سے آسمان تک
غبار ہی غبار ہے زمیں سے آسمان تک
 
وبائیں قحط زلزلے لپک رہے ہیں پے بہ پے
یہ کس کا اقتدار ہے زمیں سے آسمان تک
 
بساط خاک بھی تپاں خلا بھی ہے دھواں دھواں
بس اک عذاب نار ہے زمیں سے آسمان تک
 
گرفت پنجۂ فنا میں خستہ حال و خوں چکاں
حیات مستعار ہے زمیں سے آسمان تک
 
فغان و اشک و آہ کا جگر گداز سلسلہ
بلطف کردگار ہے زمیں سے آسمان تک
 
متاع جبر زندگی ہمیں بھی جس نے کی عطا
اسی کا اختیار ہے زمیں سے آسمان تک
 
فراز عرش کے مکیں شکستہ دل ہمیں نہیں
ہر ایک بے قرار ہے زمیں سے آسمان تک
 

غزل

ہٹ جائیں اب یہ شمس و قمر درمیان سے
میری زمیں ملے گی گلے آسمان سے
سینے میں ہیں خلا کے وہ محفوظ آج بھی
جو حرف ادا ہوئے ہیں ہماری زبان سے
وہ میرے ہی قبیلے کا باغی نہ ہو کہیں
اک تیر ادھر کو آیا ہے جس کی کمان سے
صیاد نے کیا ہے اسی کو اسیر دام
طائر جو دل گرفتہ رہا ہے اڑان سے
ناکامیوں نے اور بڑھائے ہیں حوصلے
گزرا ہوں جب کبھی میں کسی امتحان سے
کہلائے جس میں رہ کے ہمیشہ کرایہ دار
کیا انس ہو مکین کو ایسے مکان سے
کیوں پیروی پہ ان کی ہو مائل مرا دماغ
غالبؔ کے ہوں نہ میرؔ کے میں خاندان سے
راغبؔ بہ احتیاط ہی لازم ہے گفتگو
دشمن کو بھی گزند نہ پہنچے زبان سے

اردو کتابیں 2020ء۔ جملہ حقوق محفوظ ہیں

صرف کتاب ڈان لوڈ ہو سکتی ہے