رازق الخیری
1900—1979 | کراچی ، پاکستان
راشد الخیری کے فرزند اور افسانہ نگار
| رازق الخیری | |
| معلومات شخصیت | |
| نام | رازق الخیری |
| پیدائش | ستمبر 1900ء| | دہلی |
| وفات | 24 دسمبر | 1979ء |
| والد کا نام | علامہ راشد الخیری |
| پیشہ | مصنف، مدیر |
| اصناف ادب | نسواں ، افسانہ |
| زبان | اردو |
| شہریت | پاکستان |
حالات زندگی اور ادبی خدمات
مصنف مصورِ غم، علامہ راشد الخیری کے فرزند اکبر تھے۔ ان کی پیدائش ستمبر 1900کو دہلی میں ہوئی ۔ انھوں نے 1919ء میں عربک اسکول سے میٹرک کیا۔ انٹر 1921ء میں سینٹ اسٹیفن کالج دہلی سے انٹر کرنے کے بعد بی اے میں داخل ہوئے۔ 1923ء میں علامہ راشد الخیری نے ماہنامہ ’’عصمت ‘‘ جسے انھوں نے جون 1908ء میں اصلاح نسواں، حقوق نسواں اور تعلیم نسواں کی غرض سے جاری کیا تھا، جو خصوصاً مسلم خواتین کی مختلف گوشوں میں رہنمائی اور اس کی بدولت نہ جانے کتنی خواتین علم و ادب سے شناسا اور فکر و نظر سے آشنا ہوئیں اور کتنی ہی لکھنے والیوں اور لکھنے والوں کا جنم ہوا، اس کی ادارتی ذمے داری رازق الخیری کے سپرد کر دی، جسے انھوں نے 56 سال تک اس طرح نبھایا کہ اس کی پابندی وقت میں کبھی فرق نہیں آیا۔ اس حوالے سے شان الحق حقی نے لکھا ’’عصمت کے قارئین کو یہ بات بتانا تحصیل حاصل ہے کہ اس کی باقاعدگی میں کبھی فرق نہیں آیا۔ اکثر جریدے اشتہارات کی خاطر دنوں کے لیے اشاعت کو التوا میں ڈال دیتے ہیں، مولانا نے کبھی ایک دن کے لیے پہلی سے دوسری تاریخ نہ ہونے دی۔ میں اس بات کا عینی شاہد ہوں کہ انھوں نے اشتہارات یہ کہہ کر رد کر دیے کہ یہ پرچہ ایک دن کے لیے بھی روکا نہیں جا سکتا‘‘۔
مدیران کی تاریخ میں رازق الخیری جیسا ہمیں کوئی دوسرا مدیر نظر نہیں آتا جس نے 56 سال تک کسی ایک رسالے کی اس طرح ادارت کی ہو، اس کے علاوہ علامہ راشد الخیری کی نگرانی میں 1927 میں بچیوں کے لیے ماہنامہ ’’بنات‘‘ اور 1934 میں خواتین کو ہنرمند اور دستکار بنانے کے لیے ماہنامہ ’’جوہر نسواں ‘‘ کا اجرا کیا۔ صحافتی تاریخ میں شاید ہی کسی نے مولانا رازق الخیری کے علاوہ خواتین سے متعلق اتنے رسالے ایک مشن کی طرح شایع کیے ہوں۔ اپنی زندگی کے آخری شمارے ’’عصمت‘‘ کو مرتب کرتے ہوئے جنوری 1980 میں انھوں نے لکھا ’’خدا کا شکر ہے کہ عصمت نے نئے سال میں قدم رکھا، 1979 بخیر و خوبی پابندی وقت کے ساتھ طے ہوا اور اب 1980 بھی آ گیا۔ امتداد زمانہ کے ساتھ ساتھ عصمت نے جو کچھ خدمات انجام دیں اور جن مشکلات کو عبور کرتا ہوا آگے بڑھا یہ معمولی بات نہیں۔ بڑے بڑے ادبی پرچے دم توڑ گئے اور کوئی پرسان حال نہ ہوا لیکن عصمت مشکلات کے دریا میں تیرتا حوادث کے تھپیڑوں میں 1980 میں آپ کے سامنے موجود ہے۔
تصانیف
- عصمت کی کہانی
- وداع راشد
- ابو جہل اور عکرمہ
- دو ہفتے مشرقی پاکستان میں
- سفرنامہ مشرق وسطیٰ
- رسول اکرم ؐ کی بیٹیاں
- بہادر خواتین قریش
- سیدہ کی بیٹی
- مسلمانوں کی مائیں
وفات
رازق الخیری کی وفات 24 دسمبر 1979 کو کراچی، پاکستان میں ہوئی۔