Skip to content
خدیجہ مستور

خدیجہ مستور

1927-1982 | پاکستان
پاکستانی ناول نویس
مشہور ناول ’آنگن‘ کی مصنفہ

خدیجہ مستور
معلومات شخصیت
پیدائش11 دسمبر 1927ء
بلسہ، بریلی، برطانوی ہندوستان
وفات26 جولائی 1982ء (54 برس)
لندن، مملکت متحدہ
مدفنلاہور
شہریت پاکستان
برطانوی ہند
عملی زندگی
صنفناول
پیشہناول نگار، مصنفہ، ادیبہ
پیشہ ورانہ زبانانگریزی
کارہائے نمایاںآنگن، زمین

حالات زندگی

خدیجہ مستور 11 دسمبر، 1927ء کو بلسہ، بریلی، برطانوی ہندوستان میں پیدا ہوئیں۔ ان کے والد کا نام ڈاکٹر طہور احمد خان تھا وہ سرکاری ملازم تھے، ملازمت کی وجہ سے مختلف شہروں اور قصبوں میں اُن کا تبادلہ ہوتا رہا جس کی وجہ سے وہ صحیح معنوں میں بچوں کی تعلیم و تربیت پر توجہ نہ دے سکے۔ خدیجہ کی والدہ کا نام انور جہاں تھا، وہ ایک پڑھی لکھی خاتون تھیں، اکثر اُن کے مضامین خواتین کے مختلف رسالوں میں چھپتے تھے۔ اُن کی دیکھا دیکھی بچوں میں بھی ادبی رجحانات پیدا ہوئے۔ چھوٹی عمر میں ہی خدیجہ کے والد صاحب کا انتقال ہو گیا، جس کی وجہ سے اُن کے خاندان کو بے حد مشکلات پیش آئیں۔ کچھ عرصہ بمبئی میں قیام رہا۔ تقسیم ہند کے بعد پاکستان آگئیں اور لاہور میں مستقل قیام پزیر ہوئیں۔ یہاں یہ بات بھی قابل ذکر ہے کہ خدیجہ کا خاندان ہجرت کے وقت انتہائی بے سروسامانی کی حالت میں تھا ایسے کڑے وقت میں احمد ندیم قاسمی نے ان کی مدد کی۔1950ء میں خدیجہ کی شادی مشہور افسانہ نگار احمد ندیم قاسمی کے بھانجے ظہیر بابر سے ہوئی جو صحافت کے پیشے سے منسلک تھے۔ خدیجہ نے شادی کے بعد بڑی پُر سکون زندگی گزاری۔ دونوں میاں بیوی میں بے حد محبت تھی۔ دونوں ایک دوسرے کا بے حد خیال رکھتے تھے۔


ادبی خدمات

خدیجہ کا پہلا افسانہ کب منظر عام پر آیا، اس کے بارے میں کہنا کچھ مشکل ہے تاہم اُن کے مطبوعہ افسانوں کا اولین سراغ دلّی کے رسالے ساقی سے ملتا ہے۔ اس رسالے نے اُردو افسانے کے فروغ میں اہم کردار ادا کیا ہے۔ اس کے علاوہ اُن کے افسانے لاہور کے رسالے عالم گیر، ہفت روزہ خیام اور ادب لطیف میں بھی شائع ہوتے رہے ہیں۔ ایک دلچسپ بات یہ ہے کہ ساقی کے اپریل 1944ء کے شمارے میں دونوں بہنوں ہاجرہ مسرور اور خدیجہ مستور کے افسانے بیک وقت شائع ہوئے۔ ساقی میں افسانوں کی اشاعت سے دونوں بہنوں کا نام ادبی حلقوں میں شہرت پانے لگا۔ ایک خاتون ہونے کے ناطے قدرتی طور پر خدیجہ کی ہمدردیاں عورت کے ساتھ ہیں۔ اُن کے افسانوں کے پہلے مجموعے کھیل کا پہلا افسانہ عورت کی وفا اور مردکی بے وفائی کے پس منظر میں ہے اور اتفاق دیکھیں کہ ان کا آخری افسانہ بھروسا بھی اسی موضوع پر ہے۔ خواتین کی حیثیت، نفسیات اور مسائل اُن کا پسندیدہ موضوع ہے۔


تصانیف

افسانوی مجموعے
  • کھیل 1944ء
  • بوچھار 1946ء
  • چند روز اور 1951ء
  • تھکے ہارے 1962ء
  • ٹھنڈا میٹھا پانی 1981ء
ناول
  • آنگن 1962ء
  • زمین 1963ء

اعزازات

خدیجہ مستور کو ان کے ناول آنگن پر 1962ء میں آدم جی ادبی انعام دیا گیا۔ اور اُن کے افسانوں کے آخری مجموعے ٹھنڈا میٹھا پانی پر انھیں ہجرہ ایوارڈ سے نوازا گیا۔


وفات

خدیجہ مستور 26 جولائی 1982ء کو لندن میں وفات پاگئیں۔ وہ لاہور میں گلبرگ کے قبرستان میں آسودۂ خاک ہوئیں۔


خدیجہ مستور کی کتابیں

صفحہ 1

اردو کتابیں 2020ء۔ جملہ حقوق محفوظ ہیں

صرف کتاب ڈان لوڈ ہو سکتی ہے