خالد احمد
1944-2013 | لاہور ، پاکستان
ترقی پسندی سے وابستہ غزل گو شاعر
| خالد احمد | |
| معلومات شخصیت | |
| نام | خالد احمد |
| پیدائش | 05 Jun 1944 | لکھنؤ, اتر پردیش |
| وفات | 19 Mar 2013 | لاہور ، پاکستان |
| فن | شاعر |
| اصناف ادب | شاعری |
حالات زندگی
خالد احمد 5 جون 1944ء کو لکھنؤ میں پیدا ہوئے۔ تقسیم ہند کے بعد وہ پاکستان چلے گئے۔ انہوں نے 1957ء میں مسلم ماڈل ہائی سکول لاہور سے میٹرک کیا اور پھر دیال سنگھ کالج سے بی ایس سی کا امتحان پاس کیا۔ فزکس میں ماسٹر ڈگری گورنمنٹ کالج لاہور سے حاصل کرنے کے بعد انہوں نے واپڈا میں انفارمیشن آفیسر کی حیثیت سے ملازمت کا آغاز کیا۔ وہ اسی محکمے سے ڈپٹی کنٹرولر کے عہدے سے ریٹائر ہوئے۔
ادبی خدمات
وہ ایک علمی اور ادبی خانوادے سے تعلق رکھتے تھے اور خدیجہ مستور ، ہاجرہ مسرور اور توصیف احمد خان کے بھائی تھے۔ احمد ندیم قاسمی ان کے خاندانی دوست تھے اور خالد احمد ، قاسمی صاحب سے بہت متاثر تھے، جس کا رنگ ان کی شاعری میں دکھائی دیتا ہے۔ خالد گذشتہ نے کئی برس ماہنامہ بیاض شائع کرتے رہے۔
وہ روزنامہ’’ امروز‘‘ میں ’’لمحہ لمحہ‘‘ کے عنوان سے کالم بھی لکھتے رہے۔ وہ ادبی جریدے ’’فنون‘‘ سے بھی وابستہ رہے۔ انہوں نے ڈرامے بھی لکھے اور کالم نگاری بھی کی لیکن انہیں شہرت اپنی خوبصورت شاعری کی وجہ سے ہی ملی۔
تصانیف
- دراز پلکوں کے سائے سائے
- ایک مٹھی ہوا
- پہلی صدا پرندے کی
- ہتھیلیوں پر چراغ
- تشبیب
- جدید تر پاکستانی ادب
- کاجل گھر
اعزازات
خالد احمد کی علمی و ادبی خدمات پر انہیں بے شمار ایوارڈز کے ساتھ ساتھ حکومتِ پاکستان نے تمغہء حسنِ کارگردگی سے بھی نوازا تھا۔
وفات
خالد احمد 19 مارچ 2013 کو پھیپھڑوں کے سرطان کے باعث لاہور میں انتقال کر گئے۔
نمونہ کلام
غزل
| ترک تعلقات پہ رویا نہ تو نہ میں |
| لیکن یہ کیا کہ چین سے سویا نہ تو نہ میں |
| حالات کے طلسم نے پتھرا دیا مگر |
| بیتے سموں کی یاد میں کھویا نہ تو نہ میں |
| ہر چند اختلاف کے پہلو ہزار تھے |
| وا کر سکا مگر لب گویا نہ تو نہ میں |
| نوحے فصیل ضبط سے اونچے نہ ہو سکے |
| کھل کر دیار سنگ میں رویا نہ تو نہ میں |
| جب بھی نظر اٹھی تو فلک کی طرف اٹھی |
| بر گشتہ آسمان سے گویا نہ تو نہ میں |
غزل
| خاک پر خاک کی ڈھیریاں رہ گئیں |
| آدمی اٹھ گئے نیکیاں رہ گئیں |
| کس کی تعلیم کا آخری سال تھا |
| چوڑیاں بک گئیں بالیاں رہ گئیں |
| عشق اک روپ تھا حسن کی دھوپ کا |
| یاد کیوں دھوپ کی سختیاں رہ گئیں |
| خون میں گھل گئیں سانولی قربتیں |
| تن میں تپتی ہوئی ہڈیاں رہ گئیں |
| درد انگور کی بیل تھے پھل گئے |
| غم کشوں کے لیے تلخیاں رہ گئیں |
| عرصۂ فسق میں قسمت عشق میں |
| حکمت آمیز پسپائیاں رہ گئیں |
| قمقموں کی طرح قہقہے جل بجھے |
| میز پر چائے کی پیالیاں رہ گئیں |
| اس بلندی پہ ہم نے پڑاؤ کیا |
| جس کے آگے فقط پستیاں رہ گئیں |
| حسن کے ہاتھ سے آئینہ گر پڑا |
| فرش پندار پر کرچیاں رہ گئیں |
| ہم نے کاغذ کو بھی آئنہ کر دیا |
| لیکن اپنی سیہ بختیاں رہ گئیں |