حیرت الہ آبادی
1835-1892 | الہ آباد ، انڈیا
اکبر الہ آبادی کے ہمعصر
اپنے شعر " آگاہ اپنی موت سے کوئی بشر نہیں "کے لیے مشہور
| حیرت الہ آبادی | |
| معلومات شخصیت | |
| اصل نام | محمد جان خاں |
| تخلص | حیرت |
| قلمی نام | حیرت الہ آبادی |
| پیدائش | 28 Oct 1835 | الہٰ آباد, اتر پردیش |
| وفات | 16 Sep 1892 |
حالات زندگی
نام محمد جان خاں، حیرت تخلص۔ وطن الہ آباد تھا۔ مرزا اعظم علی اعظم شاگرد آتش سے تلمذ حاصل تھا۔ ان کے دادا جہانگیر خاں فوج میں رسالدار تھے۔ ۱۸۹۲ء تک زندہ تھے۔ صاحب دیوان تھے۔
نمونہ کلام
غزل
| آگاہ اپنی موت سے کوئی بشر نہیں |
| سامان سو برس کا ہے پل کی خبر نہیں |
| آ جائیں رعب غیر میں ہم وہ بشر نہیں |
| کچھ آپ کی طرح ہمیں لوگوں کا ڈر نہیں |
| اک تو شب فراق کے صدمے ہیں جاں گداز |
| اندھیر اس پہ یہ ہے کہ ہوتی سحر نہیں |
| کیا کہئے اس طرح کے تلون مزاج کو |
| وعدے کا ہے یہ حال ادھر ہاں ادھر نہیں |
| رکھتے قدم جو وادئ الفت میں بے دھڑک |
| حیرتؔ سوا تمہارے کسی کا جگر نہیں |
غزل
| بوسہ لیا جو چشم کا بیمار ہو گئے |
| زلفیں چھوئیں بلا میں گرفتار ہو گئے |
| سکتہ ہے بیٹھے سامنے تکتے ہیں ان کی شکل |
| کیا ہم بھی عکس آئینۂ یار ہو گئے |
| بیٹھے تمہارے در پہ تو جنبش تلک نہ کی |
| ایسے جمے کہ سایۂ دیوار ہو گئے |
| ہم کو تو ان کے خنجر ابرو کے عشق میں |
| دن زندگی کے کاٹنے دشوار ہو گئے |