حبیب موسوی
کلاسیکی اردو شاعر
| حبیب موسوی | |
| معلومات شخصیت | |
| اصل نام | سید محمد کاظم |
| قلمی نام | حبیب موسوی |
| فن | شاعر |
| زبان | اردو |
| شہریت | برصغیر |
نمونہ کلام
غزل
| سب میں ہوں پھر کسی سے سروکار بھی نہیں |
| غافل اگر نہیں ہوں تو ہشیار بھی نہیں |
| قیمت اگر وہ دیتے ہیں تکرار بھی نہیں |
| کچھ ہم کو دل کے دینے میں انکار بھی نہیں |
| نسبت ہے جسم و روح کی اللہ رے اتحاد |
| سبحہ اگر نہیں ہے تو زنار بھی نہیں |
| بیٹھا ہوں اس کی یاد میں بھولا ہوں غیر کو |
| زاہد اگر نہیں ہوں ریاکار بھی نہیں |
| جائیں وہ قتل غیر کو ہم رشک سے مریں |
| ایسی تو اپنی جان سے بیزار بھی نہیں |
| آنا ہو آؤ ورنہ یہ کہہ دو نہ آئیں گے |
| سن لو یہ دو ہی باتیں ہیں طومار بھی نہیں |
| سودا تمام ہو گیا بازار اٹھ گیا |
| وہ دل بھی اب نہیں وہ خریدار بھی نہیں |
| طرز جفا بھی بھول گئی کیا وفا کے ساتھ |
| دل دار گر نہیں ہو دل آزار بھی نہیں |
| لیں گے ہزار در سے پلٹ کر در مراد |
| منعم نہ دیں تو کیا تری سرکار بھی نہیں |
| بھیجیں گے حسب حال انہیں گو نہ لکھ سکیں |
| کیا دامن اور دیدۂ خوں بار بھی نہیں |
| بلبل چمن کو دیکھ خزاں کے ستم کو دیکھ |
| گل کا تو ذکر کیا ہے کہیں خار بھی نہیں |
| آزاد ہیں شراب کے عادی نہیں حبیبؔ |
| احباب گر پلائیں تو انکار بھی نہیں |