حبیب سیفی
اردو شاعر اور نقاد
| حبیب سیفی | |
| معلومات شخصیت | |
| قلمی نام | حبیب سیفی |
| فن | شاعر، نقاد |
| اصناف ادب | شاعری، تنقید |
| زبان | اردو |
| شہریت | بھارت |
تصانیف
- درخشںدہ ستارے
- دیدہ ور
- مستقبل کے چاند ستارے
- شوکت پردیسی فکر و فن کے آئینے میں
نمونہ کلام
غزل
| کبھی ڈھلتے ہوئے سورج کا منظر ہی نہیں دیکھا |
| ترے دل سے پرے میں نے گزر کر ہی نہیں دیکھا |
| بتاؤں کیا گزرتی ہے مرے بچوں کے ذہنوں پر |
| ہوئی مدت تلاش رزق میں گھر ہی نہیں دیکھا |
| میں آئینہ سدا رکھتا ہوں مستقبل کے منظر کا |
| کبھی ماضی کی جانب میں نے مڑ کر ہی نہیں دیکھا |
| نہ ساحل پر نہ کشتی پر کوئی تہمت رکھی میں نے |
| تھا ڈر دل میں تلاطم کا سمندر ہی نہیں دیکھا |
| کمی شاید ہے قسمت کی کہ آنکھوں نے مری اب تک |
| جسے الماس کہتے ہیں وہ پتھر ہی نہیں دیکھا |