حبیب حیدرآبادی
(1929—1989) برطانیہ
ممتاز شاعر ، ادیب اور محقق
| حبیب حیدرآبادی | |
| معلومات شخصیت | |
| اصل نام | محمد عبد القادر |
| تخلص | حبیب |
| پیدائش | 16 اپریل 1929ء | حیدر آباد دکن |
| وفات | 1989ء | برطانیہ |
| تعلیم | بی کام |
| دائرہ کار | اکاؤٹنٹ |
| شہریت | برطانیہ |
پیدائش
حبیب حیدرآبادی 29 اپریل 1929ء کو حیدرآباد دکن میں پیدا ہوئے۔ ابتدائی تعلیم اپنے والد سے حاصل کی۔ بعد ازاں انہوں نے نظام کالج سے کامرس میں گریجویشن کیا۔ وہ اردو، فارسی اور عربی زبانوں پر عبور رکھتے تھے۔
ہجرت اور برطانیہ میں قیام
1955ء میں وہ پاکستان ہجرت کر گئے اور 1957ء میں برطانیہ منتقل ہوگئے۔ ابتدائی دنوں میں انہیں سخت جدوجہد کا سامنا کرنا پڑا۔ انہوں نے مختلف نوعیت کے کام کیے، مگر محنت اور لگن کے باعث جلد ہی اپنی جگہ بنالی۔ بعد ازاں انہوں نے اکاؤنٹنگ کے شعبے میں نمایاں مقام حاصل کیا اور ایک کمپنی میں ڈائریکٹر اور چیف اکاؤنٹنٹ کے عہدے پر فائز رہے۔
ادبی خدمات
- برطانیہ میں قیام کے دوران انہوں نے اردو زبان کی ترویج کے لیے بھرپور کردار ادا کیا۔
- ناٹنگھم میں پہلی اردو لائبریری قائم کی۔
- آل انگلینڈ اردو مشاعرے کے انعقاد میں پیش پیش رہے۔
- ڈارٹفورڈ میں اکیڈمی آف اردو اسٹڈیز کی بنیاد رکھی۔
- ادبی محافل، رسائل اور تنظیمی سرگرمیوں کے ذریعے اردو کی شمع روشن رکھی۔
- ان کی کاوشوں نے برطانیہ میں اردو کو ایک مضبوط ادبی شناخت دی۔
تصانیف
حبیب حیدرآبادی کی چند اہم کتب درج ذیل ہیں:
- انگلستان میں
- رہ رسم آشنائی
- برطانیہ کی سیاسی جماعتیں اور پارلیمنٹ
- محمد الرسول اللہ
شعری خصوصیات
ان کی شاعری سادہ، پُراثر اور جذبات سے بھرپور ہے۔ انہوں نے دیارِ غیر کی تنہائی، وطن سے محبت اور ثقافتی وابستگی کو اپنے اشعار میں خوبصورتی سے پیش کیا۔ مہجری ادب میں ان کا شمار اہم نمائندہ شاعروں میں ہوتا ہے۔
وفات
7مارچ 1989ء کو سرطان کے مرض کے باعث ان کا انتقال ہوگیا، لیکن اردو ادب کے لیے ان کی خدمات ہمیشہ یاد رکھی جائیں گی۔