حبیب جونپوری
(1918—1978) جونپور ، انڈیا
بھارت کے اردو شاعر
| حبیب جونپوری | |
| معلومات شخصیت | |
| اصل نام | محبوب الحسن |
| قلمی نام | حبیب جونپوری |
| پیدائش | 1918ء | شیراز ہند ، جونپور |
| وفات | 1978ء | کراچی |
| پیشہ | تدریس |
| فن | شاعر |
| شہریت | پاکستان |
حالات زندگی
نام مولانا محبوب الحسن تخلص حبیب جونپوری آپ 1918ء میں شیراز ہند جونپور میں پیدا ہوے۔ آپ نے لکھنؤ سے ادیب کامل اور منشی کامل منشی فاضل کی سند حاصل کی۔ اسی طرح عربی میں مولوی عالم و فاضل کی سند حاصل کی۔ ان اسناد کے حصول کا زمانہ 1937ء تک کے عرصے پر محیط ہے۔ 1937ء میں الہ آباد کےایک اسکول میں عرب و فارسی کے مدرس کی حیثیت سے ملازمت کی بعدہ ضلع جالون کے گورنمٹ ہائی اسکول کے انہیں مضامین کے مدرس مقرر ہوئے 1967ء میں ریٹائر ہوئے۔شاعری کا شوق بچپن سے تھا آرزو لکھنوی کی شاگردی میں رہے اور 1977ء میں کراچی چلے گئے۔ اور وہیں 1978ء میں وفات پائی ۔
تصانیف
- کلیات حبیب (شاعری)
نمونہ کلام
غزل
| جس کا مجھے ارماں ہے وہ اکثر نہیں ملتا |
| میں ہوش میں ہوں اور مجھے گھر نہیں ملتا |
| انسان سے رخصت ہوا معیار فضیلت |
| دستار تو لاکھوں ہیں مگر سر نہیں ملتا |
| پیشانیاں ڈھونڈیں تو کہاں اپنا ٹھکانہ |
| سجدوں کا جو مرکز تھا وہی در نہیں ملتا |
| جو چاہے سنے ہے یہ مرے قلب کی آواز |
| جو حق ہے مرا سب کے برابر نہیں ملتا |
| جب تک طلب صبر تھی دل نے نہ دیا ساتھ |
| اب ذوق ستم ہے تو ستم گر نہیں ملتا |
| دیوانگئ شوق کا کیسے ہو نظارہ |
| سر پھوڑنا چاہوں بھی تو پتھر نہیں ملتا |
| تم کو تو حبیبؔ اس نے صدا دی ہے کئی بار |
| ایسا تو کسی کو بھی مقدر نہیں ملتا |